ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ کا خصوصی انٹرویو
شخصیت، شاعری، ادب اور سماجی خدمات کے حوالے سے ایک تفصیلی گفتگو
ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ کا شمار جنوبی پنجاب کی ان نمایاں خواتین میں ہوتا ہے جنہوں نے طب، ادب، شاعری اور سماجی خدمات کے میدان میں اپنی الگ پہچان قائم کی۔ پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر اور ماہرِ امراضِ نسواں ہونے کے ساتھ ساتھ وہ ایک حساس شاعرہ، افسانہ نگار، ناول نگار، نثر نگار اور سماجی کارکن بھی ہیں۔ ان کی تحریروں میں انسانی جذبات، عورت کے تجربات، زندگی کی تلخ و شیریں حقیقتوں، محبت، جدائی اور معاشرتی رویّوں کی عکاسی نمایاں ہے۔
ان کی ادبی کاوشوں کو نہ صرف پاکستان میں پذیرائی حاصل ہوئی بلکہ ان کی شخصیت اور شاعری پر مختلف جامعات میں تحقیقی کام بھی کیا گیا ہے۔ ان کی تخلیقات کے تراجم اور کلام کی موسیقی کے ذریعے پیش کش نے بھی ان کے ادبی سفر کو وسعت دی ہے۔
زیرِ نظر انٹرویو میں ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ کی زندگی، تعلیم، ادبی سفر، شاعری، سماجی خدمات، تحقیقی کام اور ادبی ترجیحات کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کی گئی ہے۔
سوال و جواب
سوال 1: سب سے پہلے اپنے خاندانی پس منظر، ابتدائی زندگی اور تعلیم کے بارے میں بتائیے۔
جواب:
میرا تعلق ڈیرہ غازی خان سے ہے۔ میری زندگی کا سفر تعلیم، طب، ادب اور سماجی خدمت کے مختلف مراحل سے گزرا ہے۔ تعلیم ہمیشہ میری ترجیحات میں شامل رہی، کیونکہ میرا یقین ہے کہ علم انسان کو نہ صرف شعور عطا کرتا ہے بلکہ اسے زندگی کے مسائل کو سمجھنے اور دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کے قابل بھی بناتا ہے۔
میں نے ایف ایس سی گورنمنٹ کالج ڈیرہ غازی خان سے مکمل کی، جس کے بعد نشتر میڈیکل کالج ملتان سے ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کی۔ طب کے شعبے میں آنے کا مقصد انسانیت کی خدمت تھا، جب کہ ادب سے وابستگی میرے اندر موجود احساس، مشاہدے اور تخلیقی اظہار کی بدولت پروان چڑھی۔
میری زندگی میں طب اور ادب دو ایسے راستے ہیں جو بظاہر مختلف دکھائی دیتے ہیں، لیکن دونوں کا بنیادی تعلق انسان، اس کے دکھ، اس کی خوشیوں اور اس کی زندگی سے ہے۔
سوال 2: آپ نے طب جیسے مصروف پیشے کے ساتھ ادب کو کیسے جاری رکھا؟
جواب:
طب ایک ایسا شعبہ ہے جس میں وقت، توجہ، ذمہ داری اور مسلسل محنت درکار ہوتی ہے۔ ایک ڈاکٹر کی حیثیت سے مریضوں کی دیکھ بھال میری بنیادی ذمہ داری ہے، لیکن ادب بھی میری شخصیت کا ایک اہم حصہ ہے۔
انسانی زندگی کے مشاہدات، مریضوں کے تجربات، معاشرتی رویّے اور روزمرہ زندگی کے واقعات میرے احساسات کو متاثر کرتے ہیں۔ یہی مشاہدات بعض اوقات شاعری یا نثر کی صورت میں اظہار پاتے ہیں۔
میرے نزدیک ادب زندگی سے الگ کوئی چیز نہیں۔ زندگی جتنی گہری ہوتی ہے، اس کے مشاہدات بھی اتنے ہی وسیع ہوتے ہیں۔ میں نے اپنی مصروفیات کے باوجود ادب سے تعلق برقرار رکھا، کیونکہ لکھنا میرے لیے محض مشغلہ نہیں بلکہ اپنے احساسات اور خیالات کے اظہار کا ایک ذریعہ ہے۔
سوال 3: آپ کی ادبی زندگی کا آغاز کب اور کیسے ہوا؟
جواب:
ادب سے میری دلچسپی کا آغاز احساسات اور مشاہدات سے ہوا۔ انسان جب اپنے اردگرد کے ماحول، رشتوں، رویّوں اور زندگی کے تجربات کو گہرائی سے دیکھتا ہے تو اس کے اندر اظہار کی خواہش پیدا ہوتی ہے۔
میرے لیے شاعری اس اظہار کا ایک اہم وسیلہ بنی۔ رفتہ رفتہ مطالعے، مشاہدے اور تخلیقی تجربات نے میرے ادبی ذوق کو مزید نکھارا۔ میں نے اپنے جذبات کو الفاظ میں ڈھالنے کی کوشش کی اور یہی کوشش میرے ادبی سفر کی بنیاد بنی۔
میرے نزدیک تخلیق کے لیے صرف الفاظ کا ذخیرہ کافی نہیں ہوتا، بلکہ زندگی کو محسوس کرنے، انسانوں کو سمجھنے اور اپنے اندر جھانکنے کی صلاحیت بھی ضروری ہے۔
سوال 4: آپ کی شاعری کے بنیادی موضوعات کیا ہیں؟
جواب:
میری شاعری کے موضوعات میں محبت، جدائی، انسانی احساسات، زندگی کی ناپائیداری، تنہائی، عورت کی داخلی دنیا اور معاشرتی رویّے نمایاں ہیں۔ میں سمجھتی ہوں کہ شاعری کا تعلق صرف خوشی یا غم کے اظہار سے نہیں، بلکہ زندگی کے ان پہلوؤں کو سمجھنے سے بھی ہے جنہیں عام حالات میں نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔
میرے ہاں محبت محض ایک رومانوی جذبہ نہیں بلکہ ایک وسیع انسانی تجربہ ہے۔ اسی طرح جدائی صرف کسی شخص سے دوری کا نام نہیں، بلکہ بعض اوقات یہ اپنے خوابوں، خواہشوں اور گزرے ہوئے وقت سے بچھڑنے کا احساس بھی بن جاتی ہے۔
میں کوشش کرتی ہوں کہ میرے الفاظ قاری کے دل تک پہنچیں اور وہ ان میں اپنے تجربات اور احساسات کی جھلک محسوس کر سکے۔
سوال 5: آپ کی شاعری میں درد اور اداسی کا عنصر نمایاں دکھائی دیتا ہے۔ اس کی کیا وجہ ہے؟
جواب:
درد انسانی زندگی کا ایک اہم حصہ ہے۔ ہر انسان کسی نہ کسی مرحلے پر محرومی، جدائی، ناکامی، تنہائی یا کسی عزیز کے بچھڑنے کا تجربہ کرتا ہے۔ حساس طبیعت رکھنے والا انسان ان تجربات کو زیادہ شدت سے محسوس کرتا ہے۔
میری شاعری میں درد کا عنصر زندگی کے انہی مشاہدات اور تجربات سے تعلق رکھتا ہے۔ تاہم، میں درد کو محض اداسی پیدا کرنے کا ذریعہ نہیں سمجھتی۔ میرے نزدیک درد انسان کو اپنے باطن میں جھانکنے، دوسروں کے احساسات سمجھنے اور زندگی کی حقیقتوں کا ادراک کرنے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔
شاعری کی خوبی یہ ہے کہ وہ ذاتی تجربے کو اجتماعی احساس میں بدل سکتی ہے۔ شاعرہ کا اپنا دکھ جب الفاظ میں ڈھلتا ہے تو ممکن ہے کوئی دوسرا قاری بھی اس میں اپنے دل کی آواز سن لے۔
سوال 6: آپ کے نزدیک شاعری میں عورت کی آواز اور اس کے تجربات کی کیا اہمیت ہے؟
جواب:
عورت زندگی کے مختلف رشتوں اور ذمہ داریوں میں اپنا کردار ادا کرتی ہے۔ وہ بیٹی، بہن، بیوی، ماں، پیشہ ور اور ایک آزاد شخصیت کے طور پر مختلف تجربات سے گزرتی ہے۔ اس کی زندگی میں خوشیاں بھی ہیں، محرومیاں بھی، خواب بھی ہیں اور ایسے سوالات بھی جن کا اظہار ہمیشہ آسان نہیں ہوتا۔
ادب عورت کو اپنے تجربات بیان کرنے کا ایک مؤثر وسیلہ فراہم کرتا ہے۔ میری نظر میں عورت کی شاعری کو صرف نسوانی جذبات تک محدود نہیں کرنا چاہیے۔ عورت بھی زندگی، سماج، سیاست، انسانیت، محبت، وقت اور کائنات کے بارے میں اتنا ہی وسیع نقطۂ نظر رکھتی ہے جتنا کوئی دوسرا تخلیق کار۔
میری کوشش رہتی ہے کہ عورت کے احساسات اور انسانی تجربات کو دیانت داری کے ساتھ بیان کیا جائے، تاکہ قاری ان میں ایک حقیقی انسانی آواز محسوس کرے۔
سوال 7: آپ کے مشہور اشعار میں سے ایک شعر ہے:
چھوڑ یہ بات ملے زخم کہاں سے تجھ کو
زندگی اتنا بتا کتنا سفر باقی ہے۔۔۔
اس شعر کے پس منظر اور مفہوم کے بارے میں کچھ بتائیے۔
جواب:
اس شعر میں زندگی کے سفر، انسان کی تھکن اور وقت کے ساتھ پیدا ہونے والے احساسات کی ترجمانی ہے۔ انسان کی زندگی میں بہت سے زخم ایسے ہوتے ہیں جن کی تفصیل بیان کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ کبھی یہ زخم حالات کی وجہ سے ملتے ہیں، کبھی رشتوں کی وجہ سے اور کبھی اپنی توقعات کے ٹوٹنے سے۔
لیکن ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جب انسان ماضی کی تفصیلات میں الجھنے کے بجائے یہ جاننا چاہتا ہے کہ اس کے سامنے اب کتنا راستہ باقی ہے۔
میرے نزدیک اس شعر میں زندگی سے ایک سوال بھی ہے اور ایک خاموش مکالمہ بھی۔ اس میں ماضی کے دکھوں کے ساتھ مستقبل کی طرف دیکھنے کی کیفیت موجود ہے۔
سوال 8: آپ کے اس شعر میں ایک مختلف نوعیت کا درد محسوس ہوتا ہے:
افسوس مجھ کو اُس نے اتارا ہے گور میں۔۔۔
جس کے لیے فلک سے اُتاری گئی ہوں میں۔۔۔
اس شعر کی تخلیقی کیفیت کیا ہے؟
جواب:
یہ شعر محبت، اعتماد، توقع اور محرومی کے ایک گہرے تجربے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ بعض اوقات انسان جس رشتے کو اپنی زندگی کی سب سے بڑی قوت سمجھتا ہے، وہی رشتہ اس کے لیے سب سے بڑی آزمائش بن جاتا ہے۔
اس شعر میں ایک ایسے احساس کی ترجمانی ہے جس میں انسان اپنے وجود کی اہمیت اور دوسرے شخص سے وابستہ توقعات کے درمیان ٹوٹتا ہوا محسوس کرتا ہے۔ اس میں محبت کی شدت بھی ہے اور اس محبت سے وابستہ مایوسی بھی۔
شاعری میں ایسے جذبات اس وقت مؤثر ہوتے ہیں جب وہ محض الفاظ نہ رہیں بلکہ قاری کو اپنے تجربات یاد دلائیں۔ میرے خیال میں اس شعر کی کیفیت بھی اسی انسانی تجربے سے تعلق رکھتی ہے۔
سوال 9: آپ اب تک کتنی کتابیں شائع کر چکی ہیں، اور ان کے موضوعات کیا ہیں؟
جواب:
میری ادبی کاوشوں میں شاعری کے ساتھ نثر بھی شامل ہے۔ میری نو کتابوں کا ذکر کیا جاتا ہے، جن میں پانچ شعری مجموعے شامل ہیں:
پھول سے بچھڑی خوشبو — 2007ء
میں آنکھیں بند رکھتی ہوں — 2010ء
اور شام ٹھہر گئی — 2013ء
پھول، خوشبو اور تارا — 2016ء
میرا صاحب، سائیں عشق ہے تو — 2022ء
ان کے علاوہ میری نثری اور دیگر تخلیقی کاوشوں میں میں اور یہ جہاں، سوچ کا سفر، گردِ سفر اور یہ جہاں، رنگ و بو شامل ہیں۔
میرے مختلف مجموعوں میں زندگی، محبت، انسانی احساسات، معاشرتی تجربات اور فکر و مشاہدے کے مختلف پہلو سامنے آتے ہیں۔ ہر کتاب میرے ادبی سفر کے ایک الگ مرحلے کی نمائندگی کرتی ہے۔
سوال 10: آپ نے شاعری کے علاوہ نثر اور ناول نگاری میں بھی کام کیا ہے۔ ان اصناف میں آپ کا تجربہ کیسا رہا؟
جواب:
شاعری اور نثر دونوں اظہار کے اہم ذرائع ہیں، لیکن دونوں کی اپنی اپنی خصوصیات ہیں۔ شاعری میں کم سے کم الفاظ میں زیادہ سے زیادہ احساس اور معنی پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، جب کہ نثر میں خیال کو نسبتاً تفصیل کے ساتھ بیان کرنے کی گنجائش ہوتی ہے۔
نثر کے ذریعے انسان اپنے مشاہدات، تجربات، خیالات اور معاشرتی مسائل کو زیادہ وضاحت کے ساتھ پیش کر سکتا ہے۔ ناول نگاری میں کرداروں، حالات، ماحول اور واقعات کے ذریعے زندگی کی مختلف پرتیں سامنے لائی جاتی ہیں۔
میں نے ان اصناف میں کام کرتے ہوئے اظہار کے مختلف امکانات کو سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ میرے نزدیک کسی بھی صنف میں اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ تخلیق میں فکری معنویت، انسانی سچائی اور ادبی تاثیر موجود ہو۔
سوال 11: آپ کی شخصیت اور شاعری پر مختلف جامعات میں تحقیقی کام ہوا ہے۔ آپ اسے کس نظر سے دیکھتی ہیں؟
جواب:
کسی بھی ادیب یا شاعر کی تخلیقات پر تحقیقی کام ہونا اس کے ادبی سفر کا اہم پہلو ہے۔ تحقیق کے ذریعے تخلیق کار کے موضوعات، اسلوب، فکری رجحانات اور ادبی خدمات کو منظم انداز میں سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔
میری شخصیت اور شاعری پر مختلف جامعات میں ایم اے، ایم فل اور دیگر سطحوں پر تحقیقی کام کیا گیا ہے۔ ان تحقیقی کاوشوں میں فیڈرل اردو یونیورسٹی اسلام آباد، اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور، بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان، نواز شریف یونیورسٹی ملتان، غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان اور دیگر اداروں کا ذکر آتا ہے۔
میری شاعری کے مختلف پہلوؤں پر تحقیقی مقالے لکھے گئے ہیں، جب کہ بعض دیگر تحقیقی کاموں کا سلسلہ بھی جاری رہا ہے۔ میں اس علمی دلچسپی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہوں، کیونکہ تحقیق ادب کے مطالعے کو نئی جہتیں فراہم کرتی ہے۔
سوال 12: آپ کی شاعری پر بیرونِ ملک بھی تحقیقی کام ہوا ہے اور آپ کے شعری مجموعوں کے تراجم بھی کیے گئے ہیں۔ مصر اور بھارت کی جامعات میں ہونے والے اس علمی و تحقیقی کام کے بارے میں آپ کیا بتانا چاہیں گی؟
جواب:
میرے لیے یہ امر باعثِ مسرت اور حوصلہ افزائی ہے کہ میری شاعری نے پاکستان سے باہر بھی اہلِ علم و ادب کی توجہ حاصل کی اور اس پر ترجمے اور تحقیقی کام ہوئے۔
مصر کی جامعۃ الازہر میں میرے تیسرے شعری مجموعے ’’اور شام ٹھہر گئی‘‘ کا عربی ترجمہ ڈاکٹر تغرید البیونی نے کیا۔ اسی طرح میرے چوتھے شعری مجموعے ’’پھول، خوشبو اور تارا‘‘ پر محترمہ نیرہ نے مصر میں ایم فل کی سطح پر تحقیقی مقالہ تحریر کیا۔
بھارت میں نئی دہلی کی جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں محترمہ شاہدہ نے پروفیسر ڈاکٹر خواجہ اکرام الدین کی نگرانی میں میری شاعری پر پی ایچ ڈی کا تحقیقی مقالہ مکمل کیا۔
میں ان علمی و تحقیقی کاوشوں کو اپنی شاعری کے لیے ایک اعزاز سمجھتی ہوں۔ میرے نزدیک ادب کی اصل قوت یہ ہے کہ وہ زبان، سرحد اور جغرافیے کی حدود سے آگے بڑھ کر انسانی احساسات، تجربات اور فکر کو دوسرے معاشروں تک پہنچاتا ہے۔ جب کسی شاعر کے کلام کا دوسری زبانوں میں ترجمہ ہوتا ہے یا اس پر اعلیٰ تعلیمی سطح پر تحقیق کی جاتی ہے تو اس کے تخلیقی کام کو نئے قارئین اور محققین تک رسائی ملتی ہے۔ یہ سب میرے لیے باعثِ اطمینان بھی ہے اور اردو زبان و ادب کی وسعت اور قبولیت کی ایک حوصلہ افزا مثال بھی۔
سوال 13: آپ کی شاعری کو موسیقی کی صورت میں بھی پیش کیا گیا۔ اس تجربے کے بارے میں بتائیے۔
جواب:
شاعری اور موسیقی کا تعلق بہت گہرا ہے۔ جب کسی شعر کو مناسب دھن اور آواز ملتی ہے تو اس کے احساسات ایک مختلف انداز میں سامع تک پہنچتے ہیں۔
میرے کلام پر دو میوزک البمز کا ذکر کیا جاتا ہے۔ ان میں ایک البم علی میوزک پروڈکشن پاکستان کی جانب سے اور دوسرا برطانیہ کی کمپنی ہائی ٹیک کے ذریعے لندن میں ریلیز کیا گیا۔ میرے کلام کو مختلف گلوکاروں نے اپنی آواز دی، جن میں انور رفیع، حنا نصراللہ، صائمہ جہاں، شانی انور، ساجد حسن اور شمیم خلیق کے نام شامل ہیں۔
میرے لیے یہ ایک خوش آئند تجربہ ہے کہ شاعری کتاب کے صفحات سے نکل کر موسیقی کے ذریعے بھی لوگوں تک پہنچتی ہے۔ ہر فن اپنے انداز میں احساسات کو منتقل کرتا ہے، اور موسیقی اس عمل میں ایک اضافی تاثیر پیدا کر سکتی ہے۔
سوال 14: آپ طب کے شعبے میں کن ذمہ داریوں سے وابستہ ہیں؟
جواب:
میں پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر ہوں اور امراضِ نسواں کے شعبے سے وابستہ ہوں۔ میں جان سرجیکل ہسپتال، بلاک 48، کنگن روڈ، ڈیرہ غازی خان میں بطور ایڈمنسٹریٹر اور گائناکالوجسٹ خدمات انجام دیتی ہوں۔
طب کے شعبے میں کام کرتے ہوئے یہ احساس مسلسل موجود رہتا ہے کہ مریض صرف ایک طبی مسئلہ لے کر نہیں آتا بلکہ اس کے ساتھ جذبات، خدشات، خاندانی حالات اور زندگی کی کئی ذمہ داریاں بھی وابستہ ہوتی ہیں۔
خصوصاً خواتین کی صحت کے حوالے سے آگاہی، بروقت تشخیص، مناسب علاج اور مریضوں کے ساتھ ہمدردانہ رویّہ بہت اہم ہیں۔ میں سمجھتی ہوں کہ طبی خدمات میں پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ انسانی ہمدردی بھی بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔
سوال 15: آپ مختلف سماجی، ادبی اور فلاحی اداروں سے بھی وابستہ رہی ہیں۔ ان خدمات کے بارے میں بتائیے۔
جواب:
ادب اور طب کے علاوہ سماجی خدمات بھی میری زندگی کا اہم حصہ رہی ہیں۔ میں نے مختلف اداروں اور تنظیموں کے ساتھ وابستہ رہ کر اپنی استطاعت کے مطابق سماجی اور ادبی سرگرمیوں میں حصہ لیا ہے۔
میں انجمن آنچل کی صدر ہوں اور اس پلیٹ فارم کے ذریعے ادبی و سماجی سرگرمیوں سے وابستہ رہی ہوں۔ اس کے علاوہ میں پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن ڈیرہ غازی خان کی سابق نائب صدر بھی رہی ہوں۔
مختلف اوقات میں بین الاقوامی اور بین المذاہب ہم آہنگی کی تنظیم میں جنوبی پنجاب ویمن ونگ کی چیئرپرسن، اکادمی ادبیات پاکستان اسلام آباد کی اسکرونٹی کمیٹی کی سابق رکن اور اکادمی ادبیات ملتان کی آرگنائزنگ کمیٹی کی سابق رکن کے طور پر بھی ذمہ داریاں ادا کیں۔
مزید برآں، میں انسدادِ منشیات کمیٹی ڈیرہ غازی خان کی اعزازی رکن، ووکیشنل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ ڈیرہ غازی خان کے بورڈ آف مینجمنٹ کی رکن، المنصور آئی ٹرسٹ ڈیرہ غازی خان کی ایگزیکٹو رکن، کامرس ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ ڈیرہ غازی خان کی رکن اور غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان کی اسکالرشپ ایوارڈ کمیٹی کی رکن بھی رہی ہوں۔
میں ماڈل چلڈرن ہوم، محکمہ ڈیرہ غازی خان کی مشاورتی کمیٹی کی چیئرپرسن اور جم خانہ کلب ڈیرہ غازی خان کے بورڈ آف گورنرز کی اعزازی رکن کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکی ہوں۔
میرا یقین ہے کہ معاشرے میں مثبت تبدیلی کے لیے ہر شخص کو اپنی صلاحیت، تجربے اور وقت کے مطابق کردار ادا کرنا چاہیے۔
سوال 16: خواتین کی ترقی، تعلیم اور معاشی خودمختاری کے حوالے سے آپ کی کیا رائے ہے؟
جواب:
خواتین کی تعلیم اور معاشی خودمختاری کسی بھی معاشرے کی ترقی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔ تعلیم عورت کو اپنے حقوق، ذمہ داریوں اور صلاحیتوں کا شعور دیتی ہے، جب کہ معاشی خودمختاری اسے زندگی کے فیصلوں میں زیادہ اعتماد فراہم کرتی ہے۔
خواتین کو تعلیم، صحت، روزگار اور پیشہ ورانہ ترقی کے یکساں مواقع ملنے چاہییں۔ اس کے ساتھ خاندان اور معاشرے کا تعاون بھی ضروری ہے تاکہ خواتین اپنی صلاحیتوں کو بہتر انداز میں بروئے کار لا سکیں۔
میرے نزدیک خواتین کی ترقی کا مقصد مردوں سے مقابلہ پیدا کرنا نہیں، بلکہ ایک ایسے معاشرے کی تشکیل ہے جہاں ہر فرد کو اپنی صلاحیت کے مطابق آگے بڑھنے کا موقع حاصل ہو۔
سوال 17: آپ ادبی تنظیموں اور اداروں میں کام کرتے ہوئے کن مسائل کو زیادہ اہم سمجھتی ہیں؟
جواب:
ادبی تنظیموں کی بنیادی ذمہ داری تخلیق کاروں کے لیے ایسے مواقع پیدا کرنا ہے جہاں وہ اپنے کام کو پیش کر سکیں، ایک دوسرے سے سیکھ سکیں اور قارئین تک رسائی حاصل کر سکیں۔
ہمارے ہاں بہت سے اہل قلم محدود وسائل کے باوجود اچھا کام کر رہے ہیں۔ انہیں مناسب پلیٹ فارم، معیاری تنقید، کتابوں کی اشاعت، ادبی تقریبات اور تحقیقی سہولتوں کی ضرورت ہوتی ہے۔
اسی طرح ادبی اداروں کو چاہیے کہ وہ نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کریں اور ادب کو محض رسمی تقریبات تک محدود نہ رکھیں۔ ادبی سرگرمیوں میں معیار، مطالعے اور فکری مکالمے کو مرکزی حیثیت ملنی چاہیے۔
سوال 18: آپ کے خیال میں موجودہ دور میں اردو ادب کو کن بڑے چیلنجز کا سامنا ہے؟
جواب:
موجودہ دور میں اردو ادب کو کئی طرح کے چیلنجز درپیش ہیں۔ مطالعے کی عادت میں کمی، کتابوں تک محدود رسائی، معیاری تنقید کا فقدان اور ادبی سرگرمیوں کے لیے محدود وسائل ان میں شامل ہیں۔
ڈیجیٹل میڈیا نے اظہار اور اشاعت کے نئے مواقع ضرور پیدا کیے ہیں، لیکن اس کے ساتھ سطحی مواد کی فراوانی بھی ایک مسئلہ ہے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو معیاری ادب، تحقیق اور مطالعے کے فروغ کے لیے استعمال کیا جائے۔
اردو ادب کا مستقبل بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ نئی نسل کو اچھی کتابوں سے متعارف کرایا جائے، تعلیمی اداروں میں مطالعے کی حوصلہ افزائی ہو اور تخلیق کاروں کو سنجیدہ ادبی مکالمے کے مواقع فراہم کیے جائیں۔
سوال 19: نئی نسل کے شاعروں اور لکھنے والوں کے لیے آپ کا کیا پیغام ہے؟
جواب:
نئے لکھنے والوں کو میرا پیغام ہے کہ وہ مطالعے کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔ صرف لکھنا کافی نہیں، اچھا لکھنے کے لیے پڑھنا، غور کرنا، مشاہدہ کرنا اور اپنی تخلیق پر نظرثانی کرنا بھی ضروری ہے۔
ادب میں فوری شہرت کے بجائے مستقل مزاجی، محنت اور معیار کو اہمیت دینی چاہیے۔ ہر لکھنے والے کو اپنی آواز تلاش کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، نہ کہ محض دوسروں کے انداز کی نقل کرنی چاہیے۔
تنقید کو دشمنی نہ سمجھیں بلکہ اسے اپنی تخلیق بہتر بنانے کا ذریعہ بنائیں۔ اس کے ساتھ اپنی زبان، ثقافت اور ادبی روایت سے واقفیت بھی ضروری ہے۔
میرا یقین ہے کہ سچی تخلیق وہی ہوتی ہے جس میں احساس کی گہرائی، خیال کی معنویت اور اظہار کی سچائی موجود ہو۔
سوال 20: آپ کے خیال میں ایک اچھے شاعر کی بنیادی خصوصیات کیا ہونی چاہییں؟
جواب:
ایک اچھے شاعر کے لیے حساسیت، مشاہدہ، مطالعہ اور زبان پر گرفت بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ شاعر کو اپنے اردگرد کی دنیا کو صرف دیکھنا نہیں بلکہ سمجھنا اور محسوس کرنا بھی آنا چاہیے۔
شاعری میں جذبہ ضروری ہے، لیکن جذبے کے ساتھ فنی شعور بھی ہونا چاہیے۔ الفاظ کا مناسب انتخاب، خیال کی ترتیب، اسلوب کی انفرادیت اور اظہار کی تاثیر تخلیق کو مضبوط بناتے ہیں۔
میرے نزدیک شاعر کی کامیابی صرف اس بات میں نہیں کہ اس کے اشعار پسند کیے جائیں، بلکہ یہ بھی اہم ہے کہ اس کی تخلیق قاری کو سوچنے، محسوس کرنے اور زندگی کو نئے زاویے سے دیکھنے پر آمادہ کرے۔
سوال 21: آپ کو اپنے ادبی اور سماجی کاموں کے حوالے سے مختلف اعزازات ملے۔ ان اعزازات کو کس طرح دیکھتی ہیں؟
جواب:
اعزازات کسی بھی تخلیق کار یا سماجی کارکن کے لیے حوصلہ افزائی کا باعث ہوتے ہیں۔ مجھے مختلف ادبی اور سماجی اعزازات سے نوازا گیا، جن میں خوشبو رائٹرز ایوارڈ، بے نظیر بھٹو ایوارڈ، ایکسیلنٹ ایوارڈ آف دی سٹی اور ساؤتھ پنجاب لٹریری ایوارڈ شامل ہیں۔
میرے نام پر مختلف اوقات میں پرائیڈ آف پرفارمنس کے لیے غور کیے جانے اور نامزدگی کے مراحل سے گزرنے کا بھی ذکر رہا ہے۔
میں اعزازات کو اپنی منزل نہیں سمجھتی۔ میرے نزدیک اصل اہمیت کام کی ہے، اور کسی بھی کام کی حقیقی قدر اس کے اثرات اور اس سے وابستہ لوگوں کے تجربات سے متعین ہوتی ہے۔ اعزازات حوصلہ دیتے ہیں، لیکن تخلیقی اور سماجی ذمہ داری مسلسل محنت کا تقاضا کرتی ہے۔
سوال 22: آپ خواتین کی ادبی سرگرمیوں اور کاروباری ترقی کے اداروں سے بھی وابستہ رہی ہیں۔ اس تجربے نے آپ کو کیا سکھایا؟
جواب:
خواتین کی ادبی اور پیشہ ورانہ سرگرمیوں میں شرکت سے یہ احساس مزید مضبوط ہوتا ہے کہ صلاحیتوں کو آگے بڑھانے کے لیے مناسب مواقع اور رہنمائی کتنی ضروری ہیں۔
میں ویمن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری ڈیرہ غازی خان کے ایگزیکٹو بورڈ کی اعزازی رکن کی حیثیت سے 2024ء تا 2026ء وابستہ رہی ہوں، جب کہ 2026ء تا 2027ء کے لیے سینئر نائب صدر، ایگزیکٹو بورڈ کی ذمہ داری بھی میرے تجربات میں شامل ہے۔
ایسے ادارے خواتین کو کاروباری سرگرمیوں، رابطہ کاری، تجربات کے تبادلے اور معاشی ترقی کے مواقع فراہم کر سکتے ہیں۔ میری رائے میں خواتین کو اپنی صلاحیتوں پر اعتماد کرنا چاہیے اور معاشرے کو بھی ان کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا چاہیے۔
سوال 23: آخر میں اپنے قارئین، مداحوں اور اردو ادب سے محبت کرنے والوں کے لیے کیا پیغام دینا چاہیں گی؟
جواب:
میں اپنے قارئین اور اردو ادب سے محبت کرنے والوں کی شکر گزار ہوں کہ وہ ادب سے اپنا تعلق برقرار رکھتے ہیں اور تخلیق کاروں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔
میرا پیغام ہے کہ کتاب سے رشتہ مضبوط رکھیں، اپنی زبان سے محبت کریں اور اپنے اردگرد کے انسانوں کے احساسات کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ زندگی میں اختلافات ضرور ہوتے ہیں، لیکن ایک دوسرے کے لیے احترام، برداشت اور ہمدردی معاشرے کو بہتر بنا سکتے ہیں۔
ادب ہمیں اپنے باطن سے ملاقات کا موقع دیتا ہے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ انسان کے دکھ کو سمجھنا، اس کی خوشی میں شریک ہونا اور اس کے وجود کا احترام کرنا بھی زندگی کی اہم قدروں میں شامل ہے۔
میں امید کرتی ہوں کہ اردو ادب نئی نسل تک پہنچتا رہے گا، نئے لکھنے والے سامنے آئیں گے اور ہمارے معاشرے میں علم، مطالعے اور تخلیقی اظہار کی قدر مزید بڑھے گی۔
ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ کے منتخب اشعار
چھوڑ یہ بات ملے زخم کہاں سے تجھ کو
زندگی اتنا بتا کتنا سفر باقی ہے۔۔۔
افسوس مجھ کو اُس نے اتارا ہے گور میں۔۔۔
جس کے لیے فلک سے اُتاری گئی ہوں میں۔۔
اختتامی کلمات
ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ کی شخصیت میں طب، ادب اور سماجی خدمت کے متعدد پہلو یکجا نظر آتے ہیں۔ ان کا ادبی سفر شاعری، نثر اور ناول نگاری تک پھیلا ہوا ہے، جب کہ ان کی تخلیقات پر تحقیقی کام اور ان کے کلام کی موسیقی کے ذریعے پیش کش ان کی ادبی سرگرمیوں کے مختلف پہلوؤں کو نمایاں کرتی ہے۔
ان کی زندگی اس بات کی مثال ہے کہ پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے ساتھ تخلیقی اظہار اور سماجی خدمات کو بھی جاری رکھا جا سکتا ہے۔ ان کی شاعری میں انسانی احساسات، زندگی کے تجربات اور رشتوں کی پیچیدگیوں کو سمجھنے کی کوشش دکھائی دیتی ہے، جب کہ ان کی سماجی وابستگیاں معاشرے میں فعال کردار ادا کرنے کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہیں۔
ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ کا ادبی و سماجی سفر اردو ادب سے وابستہ قارئین، نئی نسل کے لکھنے والوں اور ان تمام افراد کے لیے دلچسپی کا باعث ہے جو زندگی کو احساس، علم اور خدمت کے زاویے سے دیکھنا چاہتے ہیں۔






















