WAQAR-E-PAKISTAN
TOP VIDEO COLLECTION
تحریر: میاں وقارالاسلام 🖋️
ہم لکھنے والے۔۔۔ کبھی جانے غم لکھنے والے، تو کبھی انجانی خوشیاں لکھنے والے۔ کبھی ہماری چشمِ پُرنم ہوتی ہے، تو کبھی ہم رنگوں ...اور خوشبوؤں کو لفظوں میں قید کرنے نکل پڑتے ہیں۔ 🎨🌹
ہم بادلوں اور بارشوں کے اسیر ہیں؛ ہم حساس ہیں، نازک ہیں، صابر ہیں اور مضبوط بھی۔ ہم محبت سے بھرپور اور سراپا بے لوث ہیں۔ 🌧️💖
ہم کبھی اپنے ہی سامنے شرمسار ہوتے ہیں تو کبھی دوسروں کے غموں میں گھلنے والے غمگسار۔ ہماری خواہش ہوتی ہے کہ سب کو خوش رکھیں، مگر اسی چکر میں اپنے ہی ہم سے خفا رہتے ہیں۔ 😔🤝
لکھتے لکھتے شاید ہم ایک کھلی کتاب بن جاتے ہیں، اتنے سادہ کہ لوگوں کے لیے ہم پر بات کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ ہمیں لفظوں میں رنگ نظر آتے ہیں اور تحریروں سے خوشبو آتی ہے۔ 📖✨
الفاظ کبھی ٹھنڈی ہوا کے جھونکے بن کر ہمیں چھوتے ہیں، تو کبھی ہم ان کے لہجوں کی تپتی گرمی اور سرد مہری کو محسوس کرتے ہیں۔ کبھی ہمیں بہت کچھ سمجھ لیا جاتا ہے اور کبھی ہم بالکل ہی "ناسمجھ" قرار پاتے ہیں۔ 🌬️🔥
سچ لکھ دیں تو تعریف ہوتی ہے، مگر "پورا سچ" لکھ دیں تو غداری اور ملک دشمنی کے فتوے تیار ملتے ہیں۔ ہم ہی کسی کے خوشامدی ہیں اور ہم ہی کسی کے کڑے نقاد۔ ہم ہی اچھے ہیں اور ہم ہی برے۔ ⚖️🚫
ہم احساس اور جذبات سے لکھتے ہیں، مگر جو ان جذبوں سے خالی ہوں، انہیں ہم سمجھ ہی نہیں آتے۔ لکھے ہوئے سے رزق کمائیں تو مفاد پرست کہلاتے ہیں اور نہ کمائیں تو "نا تجربہ کار" ٹھہرتے ہیں۔ 🧠💔
ستم تو یہ ہے کہ ہمیں مٹانے کے لیے ہماری اپنی ہی برادری کافی ہے۔ ہم ایک دوسرے کے دشمن، بے ضمیر اور مادہ پرست بن جاتے ہیں۔ حالانکہ ہم ہی سیکھنے والے ہیں اور ہم ہی سکھانے والے۔ 🤝❌
ہم ہی شاگرد ہیں اور ہم ہی استاد۔ تاریخ گواہ ہے کہ دنیا کے بڑے بڑے نام اسی برادری سے اٹھے جنہوں نے دنیا کو نئی سوچ دی، نئے ولولے بخشے اور آزادی کی ترغیب دے کر نقشے بدل ڈالے۔ 🌍📜
حقیقت تو یہ ہے کہ جس معاشرے میں لکھنے والے کمزور پڑ جائیں، وہ معاشرہ معذور ہو جاتا ہے۔ کسی لکھنے والے کو دوسرے پر کوئی برتری نہیں؛ برتری ہے تو صرف "حق اور سچ" لکھنے والے کو۔ 🏛️✊
جھوٹ اور منافقت پر تو بہت کچھ لکھا جا رہا ہے، مگر معاشرے میں مثبت تبدیلی کے لیے صحت مند تحریروں کی ضرورت ہے۔ ایسی تحریریں جو برائی کی نشاندہی کریں اور اپنا کردار ادا کریں۔ ✅🌿
اگر پڑھنے کا رجحان ختم ہو جائے، تو یہ لکھنے والے کی موت ہے۔ اگر بہترین تحریر کو دیمک نے ہی چاٹنا ہے، تو یاد رکھیے ایسے معاشرے کو بھی دیمک کھا جاتی ہے۔ ⚠️🐜
تباہی یوں ہی نہیں آتی؛ جب لوگ حقائق سے نظریں چرانے لگیں، وہ نہ سنیں جو سننا چاہیے، وہ نہ پڑھیں جو پڑھنا ضروری ہو، تو پھر پیچھے صرف افسوسناک کہانیاں ہی رہ جاتی ہیں۔ 🏚️📉
سوال یہ ہے کہ کیا ہم لکھنے والے اپنے معیار کو پہنچ گئے ہیں؟ کیا ہماری نظر حقائق پر ہے؟ اگر ہے، تو ہمارے الفاظ اتنے پھیکے اور کمزور کیوں ہیں؟ ❓🤔
ایک اچھا لکھنے والا اس لیے تباہ ہو جاتا ہے کیونکہ اس کے پیچھے مضبوط کرداروں کا سہارا نہیں ہوتا۔ ہم قسمیں سچ کی کھاتے ہیں، مثالیں فاتحین کی دیتے ہیں، مگر ہمارے اعمال کسی ہارے ہوئے گروہ جیسے ہیں۔ ⚔️🏳️
ہمیں دعویٰ تو ملک سے محبت کا ہے، مگر ہم ہی اسے دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں۔ اگر قلم کے پیچھے مضبوط کردار نہ ہو، تو سونے جیسے الفاظ بھی مٹی کے بھاؤ بکتے ہیں۔ 💎🍂
اور ہمارے کاغذی قد۔۔۔ محض ردی بن کر رہ جاتے ہیں۔ 🗑️📜
#لکھنے_والے #ادب #سچائی #کردار #میاں_وقارالاسلام #معاشرہ #قلم_کی_طاقت #اردو_ادب #اصلاح_معاشرہShow More

Now Playing
ہم لکھنے والے ✍️ تحریر: میاں وقارالاسلام 🖋️ ہم لکھنے والے۔۔۔ کبھی ...
ہم لکھنے والے ✍️
تحریر: میاں وقارالاسلام 🖋️
ہم لکھنے والے۔۔۔ کبھی جانے غم لکھنے والے، تو کبھی انجانی خوشیاں لکھنے والے۔ کبھی ہماری چشمِ پُرنم ہوتی ہے، تو کبھی ہم رنگوں ...اور خوشبوؤں کو لفظوں میں قید کرنے نکل پڑتے ہیں۔ 🎨🌹
ہم بادلوں اور بارشوں کے اسیر ہیں؛ ہم حساس ہیں، نازک ہیں، صابر ہیں اور مضبوط بھی۔ ہم محبت سے بھرپور اور سراپا بے لوث ہیں۔ 🌧️💖
ہم کبھی اپنے ہی سامنے شرمسار ہوتے ہیں تو کبھی دوسروں کے غموں میں گھلنے والے غمگسار۔ ہماری خواہش ہوتی ہے کہ سب کو خوش رکھیں، مگر اسی چکر میں اپنے ہی ہم سے خفا رہتے ہیں۔ 😔🤝
لکھتے لکھتے شاید ہم ایک کھلی کتاب بن جاتے ہیں، اتنے سادہ کہ لوگوں کے لیے ہم پر بات کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ ہمیں لفظوں میں رنگ نظر آتے ہیں اور تحریروں سے خوشبو آتی ہے۔ 📖✨
الفاظ کبھی ٹھنڈی ہوا کے جھونکے بن کر ہمیں چھوتے ہیں، تو کبھی ہم ان کے لہجوں کی تپتی گرمی اور سرد مہری کو محسوس کرتے ہیں۔ کبھی ہمیں بہت کچھ سمجھ لیا جاتا ہے اور کبھی ہم بالکل ہی "ناسمجھ" قرار پاتے ہیں۔ 🌬️🔥
سچ لکھ دیں تو تعریف ہوتی ہے، مگر "پورا سچ" لکھ دیں تو غداری اور ملک دشمنی کے فتوے تیار ملتے ہیں۔ ہم ہی کسی کے خوشامدی ہیں اور ہم ہی کسی کے کڑے نقاد۔ ہم ہی اچھے ہیں اور ہم ہی برے۔ ⚖️🚫
ہم احساس اور جذبات سے لکھتے ہیں، مگر جو ان جذبوں سے خالی ہوں، انہیں ہم سمجھ ہی نہیں آتے۔ لکھے ہوئے سے رزق کمائیں تو مفاد پرست کہلاتے ہیں اور نہ کمائیں تو "نا تجربہ کار" ٹھہرتے ہیں۔ 🧠💔
ستم تو یہ ہے کہ ہمیں مٹانے کے لیے ہماری اپنی ہی برادری کافی ہے۔ ہم ایک دوسرے کے دشمن، بے ضمیر اور مادہ پرست بن جاتے ہیں۔ حالانکہ ہم ہی سیکھنے والے ہیں اور ہم ہی سکھانے والے۔ 🤝❌
ہم ہی شاگرد ہیں اور ہم ہی استاد۔ تاریخ گواہ ہے کہ دنیا کے بڑے بڑے نام اسی برادری سے اٹھے جنہوں نے دنیا کو نئی سوچ دی، نئے ولولے بخشے اور آزادی کی ترغیب دے کر نقشے بدل ڈالے۔ 🌍📜
حقیقت تو یہ ہے کہ جس معاشرے میں لکھنے والے کمزور پڑ جائیں، وہ معاشرہ معذور ہو جاتا ہے۔ کسی لکھنے والے کو دوسرے پر کوئی برتری نہیں؛ برتری ہے تو صرف "حق اور سچ" لکھنے والے کو۔ 🏛️✊
جھوٹ اور منافقت پر تو بہت کچھ لکھا جا رہا ہے، مگر معاشرے میں مثبت تبدیلی کے لیے صحت مند تحریروں کی ضرورت ہے۔ ایسی تحریریں جو برائی کی نشاندہی کریں اور اپنا کردار ادا کریں۔ ✅🌿
اگر پڑھنے کا رجحان ختم ہو جائے، تو یہ لکھنے والے کی موت ہے۔ اگر بہترین تحریر کو دیمک نے ہی چاٹنا ہے، تو یاد رکھیے ایسے معاشرے کو بھی دیمک کھا جاتی ہے۔ ⚠️🐜
تباہی یوں ہی نہیں آتی؛ جب لوگ حقائق سے نظریں چرانے لگیں، وہ نہ سنیں جو سننا چاہیے، وہ نہ پڑھیں جو پڑھنا ضروری ہو، تو پھر پیچھے صرف افسوسناک کہانیاں ہی رہ جاتی ہیں۔ 🏚️📉
سوال یہ ہے کہ کیا ہم لکھنے والے اپنے معیار کو پہنچ گئے ہیں؟ کیا ہماری نظر حقائق پر ہے؟ اگر ہے، تو ہمارے الفاظ اتنے پھیکے اور کمزور کیوں ہیں؟ ❓🤔
ایک اچھا لکھنے والا اس لیے تباہ ہو جاتا ہے کیونکہ اس کے پیچھے مضبوط کرداروں کا سہارا نہیں ہوتا۔ ہم قسمیں سچ کی کھاتے ہیں، مثالیں فاتحین کی دیتے ہیں، مگر ہمارے اعمال کسی ہارے ہوئے گروہ جیسے ہیں۔ ⚔️🏳️
ہمیں دعویٰ تو ملک سے محبت کا ہے، مگر ہم ہی اسے دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں۔ اگر قلم کے پیچھے مضبوط کردار نہ ہو، تو سونے جیسے الفاظ بھی مٹی کے بھاؤ بکتے ہیں۔ 💎🍂
اور ہمارے کاغذی قد۔۔۔ محض ردی بن کر رہ جاتے ہیں۔ 🗑️📜
#لکھنے_والے #ادب #سچائی #کردار #میاں_وقارالاسلام #معاشرہ #قلم_کی_طاقت #اردو_ادب #اصلاح_معاشرہShow More
تحریر: میاں وقارالاسلام 🖋️
ہم لکھنے والے۔۔۔ کبھی جانے غم لکھنے والے، تو کبھی انجانی خوشیاں لکھنے والے۔ کبھی ہماری چشمِ پُرنم ہوتی ہے، تو کبھی ہم رنگوں ...اور خوشبوؤں کو لفظوں میں قید کرنے نکل پڑتے ہیں۔ 🎨🌹
ہم بادلوں اور بارشوں کے اسیر ہیں؛ ہم حساس ہیں، نازک ہیں، صابر ہیں اور مضبوط بھی۔ ہم محبت سے بھرپور اور سراپا بے لوث ہیں۔ 🌧️💖
ہم کبھی اپنے ہی سامنے شرمسار ہوتے ہیں تو کبھی دوسروں کے غموں میں گھلنے والے غمگسار۔ ہماری خواہش ہوتی ہے کہ سب کو خوش رکھیں، مگر اسی چکر میں اپنے ہی ہم سے خفا رہتے ہیں۔ 😔🤝
لکھتے لکھتے شاید ہم ایک کھلی کتاب بن جاتے ہیں، اتنے سادہ کہ لوگوں کے لیے ہم پر بات کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ ہمیں لفظوں میں رنگ نظر آتے ہیں اور تحریروں سے خوشبو آتی ہے۔ 📖✨
الفاظ کبھی ٹھنڈی ہوا کے جھونکے بن کر ہمیں چھوتے ہیں، تو کبھی ہم ان کے لہجوں کی تپتی گرمی اور سرد مہری کو محسوس کرتے ہیں۔ کبھی ہمیں بہت کچھ سمجھ لیا جاتا ہے اور کبھی ہم بالکل ہی "ناسمجھ" قرار پاتے ہیں۔ 🌬️🔥
سچ لکھ دیں تو تعریف ہوتی ہے، مگر "پورا سچ" لکھ دیں تو غداری اور ملک دشمنی کے فتوے تیار ملتے ہیں۔ ہم ہی کسی کے خوشامدی ہیں اور ہم ہی کسی کے کڑے نقاد۔ ہم ہی اچھے ہیں اور ہم ہی برے۔ ⚖️🚫
ہم احساس اور جذبات سے لکھتے ہیں، مگر جو ان جذبوں سے خالی ہوں، انہیں ہم سمجھ ہی نہیں آتے۔ لکھے ہوئے سے رزق کمائیں تو مفاد پرست کہلاتے ہیں اور نہ کمائیں تو "نا تجربہ کار" ٹھہرتے ہیں۔ 🧠💔
ستم تو یہ ہے کہ ہمیں مٹانے کے لیے ہماری اپنی ہی برادری کافی ہے۔ ہم ایک دوسرے کے دشمن، بے ضمیر اور مادہ پرست بن جاتے ہیں۔ حالانکہ ہم ہی سیکھنے والے ہیں اور ہم ہی سکھانے والے۔ 🤝❌
ہم ہی شاگرد ہیں اور ہم ہی استاد۔ تاریخ گواہ ہے کہ دنیا کے بڑے بڑے نام اسی برادری سے اٹھے جنہوں نے دنیا کو نئی سوچ دی، نئے ولولے بخشے اور آزادی کی ترغیب دے کر نقشے بدل ڈالے۔ 🌍📜
حقیقت تو یہ ہے کہ جس معاشرے میں لکھنے والے کمزور پڑ جائیں، وہ معاشرہ معذور ہو جاتا ہے۔ کسی لکھنے والے کو دوسرے پر کوئی برتری نہیں؛ برتری ہے تو صرف "حق اور سچ" لکھنے والے کو۔ 🏛️✊
جھوٹ اور منافقت پر تو بہت کچھ لکھا جا رہا ہے، مگر معاشرے میں مثبت تبدیلی کے لیے صحت مند تحریروں کی ضرورت ہے۔ ایسی تحریریں جو برائی کی نشاندہی کریں اور اپنا کردار ادا کریں۔ ✅🌿
اگر پڑھنے کا رجحان ختم ہو جائے، تو یہ لکھنے والے کی موت ہے۔ اگر بہترین تحریر کو دیمک نے ہی چاٹنا ہے، تو یاد رکھیے ایسے معاشرے کو بھی دیمک کھا جاتی ہے۔ ⚠️🐜
تباہی یوں ہی نہیں آتی؛ جب لوگ حقائق سے نظریں چرانے لگیں، وہ نہ سنیں جو سننا چاہیے، وہ نہ پڑھیں جو پڑھنا ضروری ہو، تو پھر پیچھے صرف افسوسناک کہانیاں ہی رہ جاتی ہیں۔ 🏚️📉
سوال یہ ہے کہ کیا ہم لکھنے والے اپنے معیار کو پہنچ گئے ہیں؟ کیا ہماری نظر حقائق پر ہے؟ اگر ہے، تو ہمارے الفاظ اتنے پھیکے اور کمزور کیوں ہیں؟ ❓🤔
ایک اچھا لکھنے والا اس لیے تباہ ہو جاتا ہے کیونکہ اس کے پیچھے مضبوط کرداروں کا سہارا نہیں ہوتا۔ ہم قسمیں سچ کی کھاتے ہیں، مثالیں فاتحین کی دیتے ہیں، مگر ہمارے اعمال کسی ہارے ہوئے گروہ جیسے ہیں۔ ⚔️🏳️
ہمیں دعویٰ تو ملک سے محبت کا ہے، مگر ہم ہی اسے دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں۔ اگر قلم کے پیچھے مضبوط کردار نہ ہو، تو سونے جیسے الفاظ بھی مٹی کے بھاؤ بکتے ہیں۔ 💎🍂
اور ہمارے کاغذی قد۔۔۔ محض ردی بن کر رہ جاتے ہیں۔ 🗑️📜
#لکھنے_والے #ادب #سچائی #کردار #میاں_وقارالاسلام #معاشرہ #قلم_کی_طاقت #اردو_ادب #اصلاح_معاشرہShow More

Now Playing
Title: Hamd-e-Bari Ta'ala Kalam: Tere Har Ik Naam Ki Hi Shaan Hai ...
Title: Hamd-e-Bari Ta'ala
Kalam: Tere Har Ik Naam Ki Hi Shaan Hai
Vocalist: Mahe Yemeen Amna
Lyrics: Ali Raza Ahmad
Composer: Ali Raza Ahmad
Music: Afzal Hussain
Flute: Baqir Abbas
Mix and Master: Afzal Hussain ...
#terehariknaam #Hamd
#maheyemeenamna #alirazaahmed #RamadanKareem #2025Show More
Kalam: Tere Har Ik Naam Ki Hi Shaan Hai
Vocalist: Mahe Yemeen Amna
Lyrics: Ali Raza Ahmad
Composer: Ali Raza Ahmad
Music: Afzal Hussain
Flute: Baqir Abbas
Mix and Master: Afzal Hussain ...
#terehariknaam #Hamd
#maheyemeenamna #alirazaahmed #RamadanKareem #2025Show More

Now Playing
🎓 Honoring Brilliance, Celebrating Success! 🌟 The Unique International ...
🎓 Honoring Brilliance, Celebrating Success! 🌟 The Unique International Educational Services (Pvt.) Ltd. proudly invites you to the High Achievers Award Ceremony 2025, a grand celebration of excellence, dedication, and ...academic distinction. 🏆✨ Join us as we applaud the outstanding students whose remarkable achievements have made the Unique family proud. Their hard work and commitment continue to inspire generations to aim higher and dream bigger. 💫
📅 Date: Thursday, November 6, 2025
🕚 Time: 11:00 AM
📍 Venue: Alhamra Arts Council, 68 Shahrah-e-Quaid-e-Azam, Commercial Area Garhi Shahu, Lahore.
📞 Contact: 0335-7413777 | 0300-4446610
#UniqueSchoolSystem #HighAchievers2025 #AwardCeremony
Disclaimer: This Channel is for Education and Informative videos for Worldwide Audience.Show More
📅 Date: Thursday, November 6, 2025
🕚 Time: 11:00 AM
📍 Venue: Alhamra Arts Council, 68 Shahrah-e-Quaid-e-Azam, Commercial Area Garhi Shahu, Lahore.
📞 Contact: 0335-7413777 | 0300-4446610
#UniqueSchoolSystem #HighAchievers2025 #AwardCeremony
Disclaimer: This Channel is for Education and Informative videos for Worldwide Audience.Show More

Now Playing
Farheen Ch Life Journey 2025 Hosted by Waqar-e-Pakistan www.waqaprk.com

Now Playing

Now Playing

Now Playing

Now Playing

Now Playing

Now Playing
مصنوعی ذہانت کے نام ایک خط تحریر: میاں وقارالاسلام ہم نے سکول کا وہ ...
مصنوعی ذہانت کے نام ایک خط
تحریر: میاں وقارالاسلام
ہم نے سکول کا وہ دور بھی دیکھا ہے جب ہم تختیوں پر قلم اور دوات سے لکھا کرتے تھے۔ ہمیں وہ روشنائی ...کی خوشبو ابھی میں محسوس ہوتی ہے۔ زندگی سے اس کا لمس ہی نہیں گیا۔ پھر ہم سلیٹ پر لکھتے تھے۔ کلاس روم میں بلیک بورڈ پر چاک سے بھی لکھتے تھے۔ ہم میں بہت سے دوست تھے جو انتہائی خوبصورت لکھتے تھے کہ ہماری خواہش تھی کہ کاش ہم اتنا خوبصورت لکھ سکتے۔ کچھ ہمارے جیسا لکھتے تھے۔ کچھ ایسا بھی لکھتے تھے کہ کسی کو سمجھ ہی نہیں آتا تھا کہ کیا لکھا ہے۔ ہم نے کاغذ پر دل بنائے، روتی ہوئی آنکھیں بنائیں۔ اور طرح طرح سے اپنے احساسات کے رنگوں کو کاپیوں میں بھر دیا۔ کبھی رو رو کر کاپیاں بھریں اور پھر بعد میں پرانی کاپیوں سے پرانی یادیں نکال نکال کر خوب ہنسے۔ کبھی دوستوں کی چھپی کاپیاں نکالیں اور چپکے چپکے پڑھیں، کبھی مذاق بنے کبھی مذاق اڑئے مگر ایسی کہانیاں لکھیں جو آج بھی ہمارے ہنسنے کی وجہ بن جاتیں ہیں۔
وقت گزرتا گیا، اور گزرتا ہی چلا گیا، نہ قلم رہی نہ دوات، نہ کاغذ رہا نہ پین۔ ہم نے لفظوں کو ٹائپ رائیٹرز پر ناچتے تھے۔ کچھ سال مشینوں پر یہ رقص جاری رہا اور پھر یہ مشینیں بھی ماضی کا حصہ بن گئیں۔ کمپوٹرز آ گئے، پرنٹرز آ گئے اور طالب علمی کا زمانہ بھی جاتا رہا۔ پروفیشنل لائف کے چند سال اور پھر کاغذوں کی خوشبو بھی جاتی رہی۔ ای میل عام ہو گئی اور زندگی ایک سکرین پر آ کر ٹھہر گئی۔ اور پھر سکرین چھوٹی ہوتے ہوتے ایک موبائل کے سائز کی رہ گئی۔ موبائل میں ہی کتابیں سما گئیں، اور ہم موبائل میں سما گئے۔
سوشل میڈیا ہماری زندگی میں آیا ، تو جیسے ایک نئی تہذیب ایک نیا کلچر وجود میں آ گیا۔ پہلے ہم دوستوں سے ملنے جاتے تھے، پھر کالز کرتے تھے، پھر میسج کرتے تھے اور آج کل بس ایک دوسرے کے سٹیٹس ہی دیکھتے رہتے ہیں۔ ہائے وہ ہاتھ سے لکھے ہوئے عید کے کارڈز ، اب تو خواب ہی بن کر رہ گئے ہیں۔اور جانے کیا کیا خواب بن کر رہ جائے گا۔ ایک سکرین ہمارے سامنے بس اپنی رہ گئی تھی اب وہ بھی پرائی ہونے جا رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت ہمیں بے شمار ایسا کانٹینٹ دیتی جا رہی ہے کہ ہمارا اپنا عکس اس میں مدھم ہوتا چلا جا رہا ہے۔
یہاں جب کہیں کوئی نمائش لگتی ہے تو لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں کہ کوئی روبوٹ جیسی چیز دیکھنے کو مل جائے۔ اور مل جائے تو بس گھنٹوں اسی کو دیکھتے رہیں گے۔ کہ یہ روبوٹ چلتا کیسے ہے، اُٹھتا کیسے ہے، بیٹھتا کیسے ہیں، باتیں کیسے کرتا ہے۔ چارج کیسے ہوتا ہے۔ اور کتنے گھنٹے چلتا ہے اور کرتا کیا کیا ہے۔جیسے موبائل نے ہمیں سنبھالا ہوا ہے ، مستقبل قریب میں روبوٹس بھی ہمیں سنبھال لیں گے۔ ہم نے تو کیا ٹیکنالوجی پر راج کرنا ہے ٹیکنالوجی ہم پر ضرور راج کرے گی۔
پہلے بھی ٹیکنالوجی کا راج ہی راج ہے۔ دنیا کا دفاعی نظام پہلے ہی مصنوعی ذہانت کے سپرد ہو چکا ہے۔ ائیر ڈفینس سسٹم جو کہ ایک خود کار سیکورٹی سسٹم ہے اور دشمن کی طرف سے آنے والے مزائلز کی خود شناخت بھی کر لیتا ہے اور انہیں ہوا میں تباہ بھی کر دیتا ہے۔ آج جس ملک کے پاس یہ سسٹم نہیں ، سمجھیں وہ مکمل طور پر غیر محفوظ ہے۔سرحدوں پر تو یہ سسٹم موجود تھے ہی، سرحدوں کے اندر بھی کوئی چیز ایسی نہیں جو ٹریکرز پر نہ لگی ہو۔آپ کا موبائل ہو، یا آپ کی کار، آپ کا فون نمبر ہو یا آپ کا سوشل میڈیا اکاؤنٹ ، ممکن ہی نہیں کہ آپ ٹریک نہ ہو رہے ہیں۔ ہمیں صرف ہماری حکومتیں ہی ٹریک نہیں کرتیں بلکہ دشمن قوتیں بھی ٹریک کرتی ہیں اور ہماری حکومت سے اچھا ٹریک کرتی ہیں۔ ہم تو خیر کسی کھاتے میں نہیں، غریب ملک کے جو ہوئے، امیر ترین ملکوں نے بھی ایک دوسرے کو ٹریک پر رکھا ہوا ہے۔
انٹرنیٹ کے اندر رہتے ہوئے ، مصنوعی ذہانت کا ایک سمندر ہے جس میں ہم سب تیر رہے ہیں۔ یہاں بڑی مچھلیاں چھوٹی مچھلیوں کی ساری جانکاری رکھتی ہیں اور چھوٹی مچھلیوں کے پاس ایسا کوئی سسٹم ہی موجود نہیں ہے کہ وہ اپنی کوئی پرائیوسی رکھ سکیں۔ ہر چھوٹی آنکھ کو ایک بڑی آنکھ دیکھ رہی ہے۔اور ان ساری آنکھوں کو بھی کوئی دیکھ رہا ہے۔
ایک ڈیجیٹل گلوبل ولیج، جس میں کچھ بھی نجی نہیں رہا، یہاں ہمارے بولنے کے انداز کو، ہمارے محبت کے اظہار کو، ہمارے رویوں کو، ہماری نفرتوں کو، ہماری سنجیدہ اور غیر سنجیدہ گفتگو کر ، ہمارے ہر طرح کے ایکشن اور ری ایکشن کو مشینوں نے اپنے اندر سمو لیا ہے۔
اگر آپ انٹرنیٹ پر بہت سے لوگوں سے بات چیت کرتے رہے ہیں، یا سوشل سٹیٹس لگاتے رہے ہیں اور اپ کی شخصیت کی ایک ڈیجیٹل پروفائل بن چکی ہے تو یہی انداز ایک مشین آسانی سے اڈاپٹ کر کے کسی سے گھنٹوں بات کر سکتی ہے۔ اور یہ ایک سادہ سی میتھ ہے، راکٹ سائنس نہیں ہے۔اگر ہم کسی کی کچھ تحریریں، نمونہ کلام کے طور پر مشین کو پیش کر دیں اور مشین سے کہیں کے اب وہ ہم سے اسی کی طرح بات کرے تو یہ یقینا ممکن ہے۔
بہت کچھ ممکن ہونے کے باوجود بھی تازہ لفظوں کی خوشبو کبھی کم نہیں ہوگی۔ تحریر ہمیشہ وقت کی عکاس رہی ہے۔ یہ ماضی کو محفوظ کرتی ہے، حال کا اظہار بنتی ہے اور مستقبل کے امکانات اجاگر کرتی ہے۔ بعض تحریریں سیدھی دلوں میں اتر جاتی ہیں، کچھ آنکھوں میں نمی لے آتی ہیں، اور کچھ چہرے پر مسکراہٹ بکھیر دیتی ہیں۔ کچھ تحریریں ایسے لمحوں کا عکس ہوتی ہیں جو تنہائی کے اندھیروں میں روشنی بن جاتی ہیں اور کچھ ایسے جذبات کو بیان کرتی ہیں جو الفاظ میں سموئے نہ جا سکیں۔
لکھنے والا محض لفظوں کو ترتیب نہیں دیتا بلکہ وہ ان میں جان ڈالتا ہے۔ وہ سوچوں کو زندہ کرتا ہے، جذبوں کو امر کر دیتا ہے۔ وہ خاموش چیخوں کو آواز دیتا ہے، ٹوٹے خوابوں کو کاغذ پر مکمل کرتا ہے، اور بکھرے جذبات کو ایک نئی شکل دیتا ہے۔ اس کی تحریریں کسی شکستہ دل کو تسلی دے سکتی ہیں، کسی مایوس راہگیر کو راستہ دکھا سکتی ہیں، اور کسی بکھرتے وجود کو نیا حوصلہ بخش سکتی ہیں۔Show More
تحریر: میاں وقارالاسلام
ہم نے سکول کا وہ دور بھی دیکھا ہے جب ہم تختیوں پر قلم اور دوات سے لکھا کرتے تھے۔ ہمیں وہ روشنائی ...کی خوشبو ابھی میں محسوس ہوتی ہے۔ زندگی سے اس کا لمس ہی نہیں گیا۔ پھر ہم سلیٹ پر لکھتے تھے۔ کلاس روم میں بلیک بورڈ پر چاک سے بھی لکھتے تھے۔ ہم میں بہت سے دوست تھے جو انتہائی خوبصورت لکھتے تھے کہ ہماری خواہش تھی کہ کاش ہم اتنا خوبصورت لکھ سکتے۔ کچھ ہمارے جیسا لکھتے تھے۔ کچھ ایسا بھی لکھتے تھے کہ کسی کو سمجھ ہی نہیں آتا تھا کہ کیا لکھا ہے۔ ہم نے کاغذ پر دل بنائے، روتی ہوئی آنکھیں بنائیں۔ اور طرح طرح سے اپنے احساسات کے رنگوں کو کاپیوں میں بھر دیا۔ کبھی رو رو کر کاپیاں بھریں اور پھر بعد میں پرانی کاپیوں سے پرانی یادیں نکال نکال کر خوب ہنسے۔ کبھی دوستوں کی چھپی کاپیاں نکالیں اور چپکے چپکے پڑھیں، کبھی مذاق بنے کبھی مذاق اڑئے مگر ایسی کہانیاں لکھیں جو آج بھی ہمارے ہنسنے کی وجہ بن جاتیں ہیں۔
وقت گزرتا گیا، اور گزرتا ہی چلا گیا، نہ قلم رہی نہ دوات، نہ کاغذ رہا نہ پین۔ ہم نے لفظوں کو ٹائپ رائیٹرز پر ناچتے تھے۔ کچھ سال مشینوں پر یہ رقص جاری رہا اور پھر یہ مشینیں بھی ماضی کا حصہ بن گئیں۔ کمپوٹرز آ گئے، پرنٹرز آ گئے اور طالب علمی کا زمانہ بھی جاتا رہا۔ پروفیشنل لائف کے چند سال اور پھر کاغذوں کی خوشبو بھی جاتی رہی۔ ای میل عام ہو گئی اور زندگی ایک سکرین پر آ کر ٹھہر گئی۔ اور پھر سکرین چھوٹی ہوتے ہوتے ایک موبائل کے سائز کی رہ گئی۔ موبائل میں ہی کتابیں سما گئیں، اور ہم موبائل میں سما گئے۔
سوشل میڈیا ہماری زندگی میں آیا ، تو جیسے ایک نئی تہذیب ایک نیا کلچر وجود میں آ گیا۔ پہلے ہم دوستوں سے ملنے جاتے تھے، پھر کالز کرتے تھے، پھر میسج کرتے تھے اور آج کل بس ایک دوسرے کے سٹیٹس ہی دیکھتے رہتے ہیں۔ ہائے وہ ہاتھ سے لکھے ہوئے عید کے کارڈز ، اب تو خواب ہی بن کر رہ گئے ہیں۔اور جانے کیا کیا خواب بن کر رہ جائے گا۔ ایک سکرین ہمارے سامنے بس اپنی رہ گئی تھی اب وہ بھی پرائی ہونے جا رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت ہمیں بے شمار ایسا کانٹینٹ دیتی جا رہی ہے کہ ہمارا اپنا عکس اس میں مدھم ہوتا چلا جا رہا ہے۔
یہاں جب کہیں کوئی نمائش لگتی ہے تو لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں کہ کوئی روبوٹ جیسی چیز دیکھنے کو مل جائے۔ اور مل جائے تو بس گھنٹوں اسی کو دیکھتے رہیں گے۔ کہ یہ روبوٹ چلتا کیسے ہے، اُٹھتا کیسے ہے، بیٹھتا کیسے ہیں، باتیں کیسے کرتا ہے۔ چارج کیسے ہوتا ہے۔ اور کتنے گھنٹے چلتا ہے اور کرتا کیا کیا ہے۔جیسے موبائل نے ہمیں سنبھالا ہوا ہے ، مستقبل قریب میں روبوٹس بھی ہمیں سنبھال لیں گے۔ ہم نے تو کیا ٹیکنالوجی پر راج کرنا ہے ٹیکنالوجی ہم پر ضرور راج کرے گی۔
پہلے بھی ٹیکنالوجی کا راج ہی راج ہے۔ دنیا کا دفاعی نظام پہلے ہی مصنوعی ذہانت کے سپرد ہو چکا ہے۔ ائیر ڈفینس سسٹم جو کہ ایک خود کار سیکورٹی سسٹم ہے اور دشمن کی طرف سے آنے والے مزائلز کی خود شناخت بھی کر لیتا ہے اور انہیں ہوا میں تباہ بھی کر دیتا ہے۔ آج جس ملک کے پاس یہ سسٹم نہیں ، سمجھیں وہ مکمل طور پر غیر محفوظ ہے۔سرحدوں پر تو یہ سسٹم موجود تھے ہی، سرحدوں کے اندر بھی کوئی چیز ایسی نہیں جو ٹریکرز پر نہ لگی ہو۔آپ کا موبائل ہو، یا آپ کی کار، آپ کا فون نمبر ہو یا آپ کا سوشل میڈیا اکاؤنٹ ، ممکن ہی نہیں کہ آپ ٹریک نہ ہو رہے ہیں۔ ہمیں صرف ہماری حکومتیں ہی ٹریک نہیں کرتیں بلکہ دشمن قوتیں بھی ٹریک کرتی ہیں اور ہماری حکومت سے اچھا ٹریک کرتی ہیں۔ ہم تو خیر کسی کھاتے میں نہیں، غریب ملک کے جو ہوئے، امیر ترین ملکوں نے بھی ایک دوسرے کو ٹریک پر رکھا ہوا ہے۔
انٹرنیٹ کے اندر رہتے ہوئے ، مصنوعی ذہانت کا ایک سمندر ہے جس میں ہم سب تیر رہے ہیں۔ یہاں بڑی مچھلیاں چھوٹی مچھلیوں کی ساری جانکاری رکھتی ہیں اور چھوٹی مچھلیوں کے پاس ایسا کوئی سسٹم ہی موجود نہیں ہے کہ وہ اپنی کوئی پرائیوسی رکھ سکیں۔ ہر چھوٹی آنکھ کو ایک بڑی آنکھ دیکھ رہی ہے۔اور ان ساری آنکھوں کو بھی کوئی دیکھ رہا ہے۔
ایک ڈیجیٹل گلوبل ولیج، جس میں کچھ بھی نجی نہیں رہا، یہاں ہمارے بولنے کے انداز کو، ہمارے محبت کے اظہار کو، ہمارے رویوں کو، ہماری نفرتوں کو، ہماری سنجیدہ اور غیر سنجیدہ گفتگو کر ، ہمارے ہر طرح کے ایکشن اور ری ایکشن کو مشینوں نے اپنے اندر سمو لیا ہے۔
اگر آپ انٹرنیٹ پر بہت سے لوگوں سے بات چیت کرتے رہے ہیں، یا سوشل سٹیٹس لگاتے رہے ہیں اور اپ کی شخصیت کی ایک ڈیجیٹل پروفائل بن چکی ہے تو یہی انداز ایک مشین آسانی سے اڈاپٹ کر کے کسی سے گھنٹوں بات کر سکتی ہے۔ اور یہ ایک سادہ سی میتھ ہے، راکٹ سائنس نہیں ہے۔اگر ہم کسی کی کچھ تحریریں، نمونہ کلام کے طور پر مشین کو پیش کر دیں اور مشین سے کہیں کے اب وہ ہم سے اسی کی طرح بات کرے تو یہ یقینا ممکن ہے۔
بہت کچھ ممکن ہونے کے باوجود بھی تازہ لفظوں کی خوشبو کبھی کم نہیں ہوگی۔ تحریر ہمیشہ وقت کی عکاس رہی ہے۔ یہ ماضی کو محفوظ کرتی ہے، حال کا اظہار بنتی ہے اور مستقبل کے امکانات اجاگر کرتی ہے۔ بعض تحریریں سیدھی دلوں میں اتر جاتی ہیں، کچھ آنکھوں میں نمی لے آتی ہیں، اور کچھ چہرے پر مسکراہٹ بکھیر دیتی ہیں۔ کچھ تحریریں ایسے لمحوں کا عکس ہوتی ہیں جو تنہائی کے اندھیروں میں روشنی بن جاتی ہیں اور کچھ ایسے جذبات کو بیان کرتی ہیں جو الفاظ میں سموئے نہ جا سکیں۔
لکھنے والا محض لفظوں کو ترتیب نہیں دیتا بلکہ وہ ان میں جان ڈالتا ہے۔ وہ سوچوں کو زندہ کرتا ہے، جذبوں کو امر کر دیتا ہے۔ وہ خاموش چیخوں کو آواز دیتا ہے، ٹوٹے خوابوں کو کاغذ پر مکمل کرتا ہے، اور بکھرے جذبات کو ایک نئی شکل دیتا ہے۔ اس کی تحریریں کسی شکستہ دل کو تسلی دے سکتی ہیں، کسی مایوس راہگیر کو راستہ دکھا سکتی ہیں، اور کسی بکھرتے وجود کو نیا حوصلہ بخش سکتی ہیں۔Show More

Now Playing
عنوان: طویل المیعاد تعلقات تحریر: میاں وقارالاسلام جو لوگ کہتے ہیں کہ ...
عنوان: طویل المیعاد تعلقات
تحریر: میاں وقارالاسلام
جو لوگ کہتے ہیں کہ دنیا اچھی نہیں ہے، انہوں نے دنیا کو ابھی اچھے سے نہیں دیکھا، ایک طرح سے دنیا ہمارا آئنیہ ہے، ...ہم خود کو جتنا اچھا اس کے لیے تیار کریں گے دنیا اتنی ہی خوبصورت ہمیں دیکھائی دے گی۔لوگ کہتے ہیں کہ دنیا مطلبی ہے، تو کیا ہم مطلبی نہیں ہیں، لوگ کہتے ہیں کہ دنیا خود غرض ہے تو کیا ہم خود غرض نہیں ہیں۔لوگ کہتے ہیں کہ دنیا لالچی ہے، تو کیا ہم لالچی نہیں ہیں، لوگ کہتے ہیں کہ دنیا بے حس ہے تو کیا ہم حس نہیں ہیں۔
ہم اپنے لیے حلقہ ء احباب بھی خود چنتے ہیں، اور اپنے حلقہ ء احباب میں اپنی پچان بھی خود بناتے ہیں، پھر ہم اسی سے جانے جاتے ہیں۔ تعلقات ایک باغ کی طرح ہوتے ہیں، جن میں ہم جذب اور احساسات کے بیج بوتے ہیں، ابیاری کرتے ہیں اور اسی کا ہمیں پھل ملتا ہے۔انسان زندگی میں بہت سے لوگوں سے بہت کچھ سیکھتا ہے،اچھا بھی اور شاید برا بھی، پھر انسان اپنی شخصیت کی تشکیلِ نو کرتا ہے۔
انسان نے کس سے کیا سیکھا، اور اپنے سیکھنے کے عمل سے خود کو کتنا فائدہ پہنچایا اس کے تمام اثرات اس کی شخصیت میں نظر آتے ہیں۔ کچھ فرشتہ صف انسان، آپ کی شخصیت پر بہت گہرا اور مثبت اثر چھوڑ جاتے ہیں، اور آپ کی زندگی کو بامعانی بنا جاتے ہیں۔کچھ شیطان صفت انسان ہوتے ہیں، جن کے اثرات آپ کی شخصیت کے مثبت پہلوؤں کو کھا جاتے ہیں۔ آپ کی حرکتیں بتاتی ہیں آپ کا تعلق کس سے تھا۔
کچھ لوگ ظاہری طور پر برے معلوم ہوتے ہیں، مگر ان کا اندر ایک بچے کی طرح صاف ہوتا ہے، اسی طرح کچھ لوگ صرف باہر سے ہی معصوم ہوتے ہیں۔ باوجود اس کے کہ ہر طرف اچھے، برے لوگ ہوتے ہیں، آپ منفرد شخصیت کے ساتھ ابھرتے ہیں، خود کو منواتے ہیں، پھر منواتے چلے جاتے ہیں۔ ثابت قدمی مزاج میں تسلسل، حلقہء احباب کے ساتھ مستقل رابطے، اپنے کام میں لگن اور دلچسپی اور مثب سوچ آپ کے وقار کو گرنے نہیں دیتی۔
خوبصورت باتیں سب کرتے ہیں، خوبصورت باتوں کی اپنی اہمیت ہے، خوبصورت تعلق خوبصورت باتوں سے نہیں بنتے، وقت کی چکی میں پسنا پڑتا ہے۔ اللہ نے ہمارے دلوں کو کشادہ بنایا ہے، ہم اپنے دلوں کو تنگ کرتے چلے جاتے ہیں اور پھر آخر میں ہم خود ہی تنگ ہوتے ہیں۔پست رویے پستی کا سبب بنتے ہیں، بلند رویے ہمیں بلندیوں پر لے جاتےہیں۔ قوتِ برداشت کا لمبا سفر ہے جو ہمیں طے کرنا پڑتا ہے۔
وقت بہت ظالم ہے، یہ بہت تیزی سے گرز جاتا ہے، موسم بدلتے رہتے ہیں مگر یہ ہمیں ایک نہ بدلنے والی پچان دے جاتے ہیں۔ ہم یا تو اپنے لوگوں کا اعتماد جیت جاتے ہیں یا کھو دیتے ہیں، اور اگر ہم کھو دیتے ہیں تو یہ بہت قیمتی چیز ہے جو ہم کھو دیتے ہیں۔ مانا کہ خون کے رشتے بھی سفید ہو جاتے ہیں، مگر میں نے سفید رشتوں کو خون سے بھی گہرا ہوتے دیکھا ہے۔
لوگ اپنے حلقہءاحباب سے ایک سربراہ جنتے ہیں اور پھر اس کے لیے جان بھی دے دیتے ہیں، جب کہ ان کا اپنے سربراہ سے خون کا رشتہ نہیں ہوتا۔ کہتے ہیں کہ انسان کو کبھی کچھ دے کر آزمایا جاتا ہے، کبھی کچھ چھین کر آزمایا جاتا ہے، بغیر آزمائشوں کے کسی کا قد بڑا نہیں ہوتا۔کچھ لوگوں کی گھر سے بہترین پرورش ہوتی ہے، کچھ کی اپنے استادوں سے، اور کچھ کو وقت بہت اچھا پڑھا جاتا ہے، کچھ کو کوئی نہیں پڑھا سکتا۔
مجھے بہت سے پڑھے لکھے لوگ ملے مگر انہوں نے زندگی سے کچھ نہیں سیکھا، مجھے بہت سے ان پڑھ لوگ ملے وقت نے ایسا پڑھایا کہ سونا بنا دیا۔ ہم اپنے اردگرد جن لوگوں کو بہترین کہتے ہیں، وہ یونہی بہترین نہیں بن گئے، اور جنہیں بدترین کہتے ہیں وہ بھی یونہی بدترین نہیں بن گئے۔ کچھ لوگوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ مٹی کو بھی چھو لیں تو سونا بن جاتی ہے، اور کچھ لوگ سونے کو بھی چھو لیں تو مٹی بنا دیتے ہیں۔
اپنے اردگرد کامیاب لوگوں کو دیکھیں، ان کی زندگیوں کا جائزہ لیں، دیکھیں کہ جو اطمینان سے ہیں وہ کتنے طوفانوں کو پی گئے تھے۔ آج جن سے زمانہ خوش ہے، انہوں نے کتنے ناخوشگوار رویوں کو برداشت کیا ہوگا، یہی وہی جانتے ہیں۔سرسبز اور شاداب کھیت بغیر آبیاری کے کبھی پروان نہیں چڑھتے، نہ ہی رشتے یونہی بغیر محنت کے بنتے اور نبھتے ہیں۔Show More
تحریر: میاں وقارالاسلام
جو لوگ کہتے ہیں کہ دنیا اچھی نہیں ہے، انہوں نے دنیا کو ابھی اچھے سے نہیں دیکھا، ایک طرح سے دنیا ہمارا آئنیہ ہے، ...ہم خود کو جتنا اچھا اس کے لیے تیار کریں گے دنیا اتنی ہی خوبصورت ہمیں دیکھائی دے گی۔لوگ کہتے ہیں کہ دنیا مطلبی ہے، تو کیا ہم مطلبی نہیں ہیں، لوگ کہتے ہیں کہ دنیا خود غرض ہے تو کیا ہم خود غرض نہیں ہیں۔لوگ کہتے ہیں کہ دنیا لالچی ہے، تو کیا ہم لالچی نہیں ہیں، لوگ کہتے ہیں کہ دنیا بے حس ہے تو کیا ہم حس نہیں ہیں۔
ہم اپنے لیے حلقہ ء احباب بھی خود چنتے ہیں، اور اپنے حلقہ ء احباب میں اپنی پچان بھی خود بناتے ہیں، پھر ہم اسی سے جانے جاتے ہیں۔ تعلقات ایک باغ کی طرح ہوتے ہیں، جن میں ہم جذب اور احساسات کے بیج بوتے ہیں، ابیاری کرتے ہیں اور اسی کا ہمیں پھل ملتا ہے۔انسان زندگی میں بہت سے لوگوں سے بہت کچھ سیکھتا ہے،اچھا بھی اور شاید برا بھی، پھر انسان اپنی شخصیت کی تشکیلِ نو کرتا ہے۔
انسان نے کس سے کیا سیکھا، اور اپنے سیکھنے کے عمل سے خود کو کتنا فائدہ پہنچایا اس کے تمام اثرات اس کی شخصیت میں نظر آتے ہیں۔ کچھ فرشتہ صف انسان، آپ کی شخصیت پر بہت گہرا اور مثبت اثر چھوڑ جاتے ہیں، اور آپ کی زندگی کو بامعانی بنا جاتے ہیں۔کچھ شیطان صفت انسان ہوتے ہیں، جن کے اثرات آپ کی شخصیت کے مثبت پہلوؤں کو کھا جاتے ہیں۔ آپ کی حرکتیں بتاتی ہیں آپ کا تعلق کس سے تھا۔
کچھ لوگ ظاہری طور پر برے معلوم ہوتے ہیں، مگر ان کا اندر ایک بچے کی طرح صاف ہوتا ہے، اسی طرح کچھ لوگ صرف باہر سے ہی معصوم ہوتے ہیں۔ باوجود اس کے کہ ہر طرف اچھے، برے لوگ ہوتے ہیں، آپ منفرد شخصیت کے ساتھ ابھرتے ہیں، خود کو منواتے ہیں، پھر منواتے چلے جاتے ہیں۔ ثابت قدمی مزاج میں تسلسل، حلقہء احباب کے ساتھ مستقل رابطے، اپنے کام میں لگن اور دلچسپی اور مثب سوچ آپ کے وقار کو گرنے نہیں دیتی۔
خوبصورت باتیں سب کرتے ہیں، خوبصورت باتوں کی اپنی اہمیت ہے، خوبصورت تعلق خوبصورت باتوں سے نہیں بنتے، وقت کی چکی میں پسنا پڑتا ہے۔ اللہ نے ہمارے دلوں کو کشادہ بنایا ہے، ہم اپنے دلوں کو تنگ کرتے چلے جاتے ہیں اور پھر آخر میں ہم خود ہی تنگ ہوتے ہیں۔پست رویے پستی کا سبب بنتے ہیں، بلند رویے ہمیں بلندیوں پر لے جاتےہیں۔ قوتِ برداشت کا لمبا سفر ہے جو ہمیں طے کرنا پڑتا ہے۔
وقت بہت ظالم ہے، یہ بہت تیزی سے گرز جاتا ہے، موسم بدلتے رہتے ہیں مگر یہ ہمیں ایک نہ بدلنے والی پچان دے جاتے ہیں۔ ہم یا تو اپنے لوگوں کا اعتماد جیت جاتے ہیں یا کھو دیتے ہیں، اور اگر ہم کھو دیتے ہیں تو یہ بہت قیمتی چیز ہے جو ہم کھو دیتے ہیں۔ مانا کہ خون کے رشتے بھی سفید ہو جاتے ہیں، مگر میں نے سفید رشتوں کو خون سے بھی گہرا ہوتے دیکھا ہے۔
لوگ اپنے حلقہءاحباب سے ایک سربراہ جنتے ہیں اور پھر اس کے لیے جان بھی دے دیتے ہیں، جب کہ ان کا اپنے سربراہ سے خون کا رشتہ نہیں ہوتا۔ کہتے ہیں کہ انسان کو کبھی کچھ دے کر آزمایا جاتا ہے، کبھی کچھ چھین کر آزمایا جاتا ہے، بغیر آزمائشوں کے کسی کا قد بڑا نہیں ہوتا۔کچھ لوگوں کی گھر سے بہترین پرورش ہوتی ہے، کچھ کی اپنے استادوں سے، اور کچھ کو وقت بہت اچھا پڑھا جاتا ہے، کچھ کو کوئی نہیں پڑھا سکتا۔
مجھے بہت سے پڑھے لکھے لوگ ملے مگر انہوں نے زندگی سے کچھ نہیں سیکھا، مجھے بہت سے ان پڑھ لوگ ملے وقت نے ایسا پڑھایا کہ سونا بنا دیا۔ ہم اپنے اردگرد جن لوگوں کو بہترین کہتے ہیں، وہ یونہی بہترین نہیں بن گئے، اور جنہیں بدترین کہتے ہیں وہ بھی یونہی بدترین نہیں بن گئے۔ کچھ لوگوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ مٹی کو بھی چھو لیں تو سونا بن جاتی ہے، اور کچھ لوگ سونے کو بھی چھو لیں تو مٹی بنا دیتے ہیں۔
اپنے اردگرد کامیاب لوگوں کو دیکھیں، ان کی زندگیوں کا جائزہ لیں، دیکھیں کہ جو اطمینان سے ہیں وہ کتنے طوفانوں کو پی گئے تھے۔ آج جن سے زمانہ خوش ہے، انہوں نے کتنے ناخوشگوار رویوں کو برداشت کیا ہوگا، یہی وہی جانتے ہیں۔سرسبز اور شاداب کھیت بغیر آبیاری کے کبھی پروان نہیں چڑھتے، نہ ہی رشتے یونہی بغیر محنت کے بنتے اور نبھتے ہیں۔Show More

Now Playing
پختہ رنگوں کی کہانیاں تحریر: میاں وقارالاسلام زندگی چاہے کئی سو سال کی ...
پختہ رنگوں کی کہانیاں
تحریر: میاں وقارالاسلام
زندگی چاہے کئی سو سال کی ہو، سو سال کی ہو، ستر سال کی ہو ساٹھ سال کی ہو یا پھر اس سے کم لگتا ...تو ایسے ہی ہے کہ جیسے پل بھر میں گزر گئی۔
انسان اپنی زندگی پر مختصر لکھنے بیٹھے تو چند ہی لائنوں میں قصہ تمام کیا جا سکتا ہے اور اگر تفصیل سے لکھنے بیٹھے تو بعض دفعہ یوں بھی ہوتا ہے کہ ایک ہی نظر میں اتنا لمبا افسانہ بن جاتے ہے کہ ختم کرتے کرتے عمر کم پڑ جاتی ہے۔
انسان ماں کی محبت میں لکھتا ہے تو الفاظ کم پڑ جاتے ہیں، باپ کی محبت میں لکھتا ہے تو الفاظ ہی نہیں ملتے جو ایسی بے پناہ محبتوں کے عکاس بن سکیں مگر پھر بھی لکھا جاتا ہے اور بہت لکھا جاتا ہے اور جتنا بھی لکھا جاتا ہے کم پڑ جاتا ہے۔
اسی طرح دوستوں اور رشتہ داروں اور قرابت والوں پر لکھا جاتا ہے، استادوں پر لکھا جاتا ہے، نئی اور پرانی نسلوں پر لکھا جاتا ہے۔ اور یہ سفر بھی کبھی ختم نہیں ہوتا۔
انسان اگر نظر دوڑائے تو پرندوں کی کہانیاں ختم نہیں ہوتیں جانوروں کے قصے ختم نہیں ہوتے، کیا جھیل کیا وادیاں، کیا دریا کیا سمندر کیا قدرتی نظارے، کیا زمین اور کیا آسمان نظر جہاں جہاں پڑھتی ہے کچھ نہ کچھ نکال لاتی ہے۔
اور اگر نظر کہیں نا بھی پڑے تو تخیل کی ایک وسیع دنیا پڑی ہے۔ انسان سوچوں میں کھو جائے تو اتنا دور نکلا جاتا ہے کہ پھر کسی کی آواز بھی اس تک نہیں پہنچی۔ سوچ ہی سوچ میں انسان آسمانوں کی حدوں سے نکل جاتا ہے، سمندر کی گہرائیوں میں اُتر جاتا ہے اور قلم کار ایسی ایسی باتیں لکھ جاتے ہیں کہ اگر ان کی باتیں سونے کے قلم سے بھی لکھی جائیں تو بھی ان کی قیمت کا تخمینہ نہیں لگایا جاسکتا۔
اگر دیکھا جائے تو یہ انسان کا نہیں بلکہ رحمٰن کا ہی کمال ہے جس نے ایک ذرے کو اتنی اہمیت دے دی کہ وہ اشرف المخلوقات ہے گیا۔ خالق نے اس مخلوق کو ایسا بنایا ہے کہ یہ بہت کچھ تخلیق کرنے کی صلاحیوں سے مالا مال ہے۔
مگر یہ صلاحیوں سے مالا مال انسان اپنی وقت تب کھو دیتا ہے جب یہ اپنی ٹھیک ٹھیک پہچان نہیں کرپاتا، اتنی سی پہچان نہیں کر پاتا کہ اسے پیدا کیوں کیا گیا، اور اسے کس نے پیدا کیا، اس نے کرنا کیا ہے اور اس کا ہونا کیا ہے۔ دنیا سے جو زادِ راہ اکھٹا ہوگا اس کا کیا معاملہ ہو گا اور یہ کہ آخر کار اسے اپنے ہر عمل کا جواب دہ ہونا ہے۔
کہانی ایک ہو یا ہزاروں، انجام اچھا ہو یا برا، لوگ تعریف کریں یا نہ کریں شاید فرق صرف ایک ہی چیز سے پڑھے گا کہ ہزاروں کہانیاں رکھنے والا یہ انسان اپنی زندگی کے اصلی کہانی کیسے لکھ کر آیا ہے۔ کیا اس کی زندگی کی اصلی کہانی اتنی دلچسپ اور حسین ہے کہ اس کی مغفرت کروا سکے۔
خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ ہم اپنی زندگیوں میں جو رنگ بھرتے ہیں، ان رنگوں کی حقیقت اللہ کے ہاں کیا حیثیت رکھتی ہے ایسا نہ ہو کہ بے بہا رنگوں سے سجی سجائی زندگی جب اپنا حساب دینے پر آئے تو اس کے سارے رنگ ہی اُڑ جائیں۔
اپنی زندگی کو خوبصورت بنائیں، اپنے لیے بھی اور دوسروں کے لیے بھی مگر اسے پختہ رنگوں سے سجائیں تاکہ ان کا نکھار دنیا میں بھی رہے، آپ کے دنیا سے جانے کے بعد بھی رہے اور آپ ان رنگوں کے حساب کے دن بھی دیکھ کر خوش ہوتے رہیں۔
اللہ ہمیں توفیق دے، ہم اللہ کی دی ہوئی ہدایات پر عمل پیرا ہو سکیں اور اپنی زندگیوں کی کہانیاں ایسے پختہ رنگوں سے لکھیں کہ یہ ہمارے لیے زادِ راہ اور آخرت میں مغفرت کا سامان پیدا کر سکیں۔Show More
تحریر: میاں وقارالاسلام
زندگی چاہے کئی سو سال کی ہو، سو سال کی ہو، ستر سال کی ہو ساٹھ سال کی ہو یا پھر اس سے کم لگتا ...تو ایسے ہی ہے کہ جیسے پل بھر میں گزر گئی۔
انسان اپنی زندگی پر مختصر لکھنے بیٹھے تو چند ہی لائنوں میں قصہ تمام کیا جا سکتا ہے اور اگر تفصیل سے لکھنے بیٹھے تو بعض دفعہ یوں بھی ہوتا ہے کہ ایک ہی نظر میں اتنا لمبا افسانہ بن جاتے ہے کہ ختم کرتے کرتے عمر کم پڑ جاتی ہے۔
انسان ماں کی محبت میں لکھتا ہے تو الفاظ کم پڑ جاتے ہیں، باپ کی محبت میں لکھتا ہے تو الفاظ ہی نہیں ملتے جو ایسی بے پناہ محبتوں کے عکاس بن سکیں مگر پھر بھی لکھا جاتا ہے اور بہت لکھا جاتا ہے اور جتنا بھی لکھا جاتا ہے کم پڑ جاتا ہے۔
اسی طرح دوستوں اور رشتہ داروں اور قرابت والوں پر لکھا جاتا ہے، استادوں پر لکھا جاتا ہے، نئی اور پرانی نسلوں پر لکھا جاتا ہے۔ اور یہ سفر بھی کبھی ختم نہیں ہوتا۔
انسان اگر نظر دوڑائے تو پرندوں کی کہانیاں ختم نہیں ہوتیں جانوروں کے قصے ختم نہیں ہوتے، کیا جھیل کیا وادیاں، کیا دریا کیا سمندر کیا قدرتی نظارے، کیا زمین اور کیا آسمان نظر جہاں جہاں پڑھتی ہے کچھ نہ کچھ نکال لاتی ہے۔
اور اگر نظر کہیں نا بھی پڑے تو تخیل کی ایک وسیع دنیا پڑی ہے۔ انسان سوچوں میں کھو جائے تو اتنا دور نکلا جاتا ہے کہ پھر کسی کی آواز بھی اس تک نہیں پہنچی۔ سوچ ہی سوچ میں انسان آسمانوں کی حدوں سے نکل جاتا ہے، سمندر کی گہرائیوں میں اُتر جاتا ہے اور قلم کار ایسی ایسی باتیں لکھ جاتے ہیں کہ اگر ان کی باتیں سونے کے قلم سے بھی لکھی جائیں تو بھی ان کی قیمت کا تخمینہ نہیں لگایا جاسکتا۔
اگر دیکھا جائے تو یہ انسان کا نہیں بلکہ رحمٰن کا ہی کمال ہے جس نے ایک ذرے کو اتنی اہمیت دے دی کہ وہ اشرف المخلوقات ہے گیا۔ خالق نے اس مخلوق کو ایسا بنایا ہے کہ یہ بہت کچھ تخلیق کرنے کی صلاحیوں سے مالا مال ہے۔
مگر یہ صلاحیوں سے مالا مال انسان اپنی وقت تب کھو دیتا ہے جب یہ اپنی ٹھیک ٹھیک پہچان نہیں کرپاتا، اتنی سی پہچان نہیں کر پاتا کہ اسے پیدا کیوں کیا گیا، اور اسے کس نے پیدا کیا، اس نے کرنا کیا ہے اور اس کا ہونا کیا ہے۔ دنیا سے جو زادِ راہ اکھٹا ہوگا اس کا کیا معاملہ ہو گا اور یہ کہ آخر کار اسے اپنے ہر عمل کا جواب دہ ہونا ہے۔
کہانی ایک ہو یا ہزاروں، انجام اچھا ہو یا برا، لوگ تعریف کریں یا نہ کریں شاید فرق صرف ایک ہی چیز سے پڑھے گا کہ ہزاروں کہانیاں رکھنے والا یہ انسان اپنی زندگی کے اصلی کہانی کیسے لکھ کر آیا ہے۔ کیا اس کی زندگی کی اصلی کہانی اتنی دلچسپ اور حسین ہے کہ اس کی مغفرت کروا سکے۔
خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ ہم اپنی زندگیوں میں جو رنگ بھرتے ہیں، ان رنگوں کی حقیقت اللہ کے ہاں کیا حیثیت رکھتی ہے ایسا نہ ہو کہ بے بہا رنگوں سے سجی سجائی زندگی جب اپنا حساب دینے پر آئے تو اس کے سارے رنگ ہی اُڑ جائیں۔
اپنی زندگی کو خوبصورت بنائیں، اپنے لیے بھی اور دوسروں کے لیے بھی مگر اسے پختہ رنگوں سے سجائیں تاکہ ان کا نکھار دنیا میں بھی رہے، آپ کے دنیا سے جانے کے بعد بھی رہے اور آپ ان رنگوں کے حساب کے دن بھی دیکھ کر خوش ہوتے رہیں۔
اللہ ہمیں توفیق دے، ہم اللہ کی دی ہوئی ہدایات پر عمل پیرا ہو سکیں اور اپنی زندگیوں کی کہانیاں ایسے پختہ رنگوں سے لکھیں کہ یہ ہمارے لیے زادِ راہ اور آخرت میں مغفرت کا سامان پیدا کر سکیں۔Show More

Now Playing
کوئی ولی تھا! زندگی کتنی تیزی سے گزر جاتی ہے، ہم کتنے قیمتی لوگ کھو ...
کوئی ولی تھا!
زندگی کتنی تیزی سے گزر جاتی ہے،
ہم کتنے قیمتی لوگ کھو دیتے ہیں۔
جب وہ پاس ہوتے ہیں تو ان کی قیمت کا اندازہ نہیں لگا پاتے
اور جب دور ...چلے جاتے ہیں تو ہم گزرے وقت کو سوچتے ہیں
کہ کاش ان کے ساتھ تھوڑا اور وقت گزارا ہوتا،
ان کی اور باتیں سنی ہوتیں انہیں اور محسوس کیا ہوتا۔
مگر وقت اپنا صفحہ بدل چکا ہوتا ہے اور زندگی کی کہانی اور موڑ لے لیتی ہے۔
کتنے ہی موڑ ہماری زندگی میں آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں،
اور پھر ایک وقت آتا ہے،
جب ہم زندگی کے آخری موڑ پر کھڑے ہوتے ہیں۔
ہم عجیب ہیں،
ہم اپنی زندگی میں ایسے لوگوں کو اہمیت دیتے ہیں
جن سے ہماری زندگی کا خوشگوار پہلو منسلک ہی نہیں ہوتا،
ہم دشمنوں کے بارے میں زیادہ سوچتے ہیں،
ہم تکلیف دہ پہلوں کی طرف زیادہ دیکھتے ہیں۔
ہم ایسے راستے اور ایسے لوگوں کا تعین نہیں کرتے
جن راستوں پر چل کر یا جن لوگوں کے ساتھ وقت گزار کر
ہماری زندگی زیادہ بامعانی اور زیادہ پر مسرت ہو سکتی ہے۔
زندگی اتنی تکلیف دہ نہیں ،
جتنا تکلیف دہ اسے ہم خود بناتے ہیں
ہم کانٹے چنتے ہیں،
ہم زخم کریدتے ہیں،
ہم پھول کی طرف نہیں دیکھتے
ہم مرہم نہیں بنتے۔
ہم دکھ نہیں بانٹتے ،ہم غم گسار نہیں بنتے ،
ہم اس دنیا میں مصنوعی چیزیں ڈھونڈتے ہیں،
ہم اس دنیا کی حقیقت کو نہیں سمجھتے ،
ہم نعمتوں کا شمار نہیں کرتے ،
ہم نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرتے ،
ہمیں جو ملتا ہے ہم اس کی قدر نہیں کرتے۔
ہم خوشگوار زندگی گزارنے کے لیئے بہت محنت کرتے ہیں،
اتنی محنت کہ ہم اپنے کل کے لیئے اپنے آج کا سودا کرتے ہیں،
اور یہ سودا ہمیں بہت مہنگا پڑتا ہے،
کل کبھی نہیں آتا اور ہم اپنا آج بھی کھو دیتے ہیں۔
اچھے کل کے لیئے ہمیں اپنا آج بہتر کرنا ہے،
جیسا ہمارا آج ہو گا ویسا ہی کل ہمارا استقبال کرے گا ،
اور اگر ہم آج کی فکر نہیں کریں گے
تو ہمارا کل بھی ہماری فکر نہیں کرے گا۔
جو ہمارے پاس آنا ہے ہمیں اس کی اتنی قدر ہے ،
کہ ہم اپنا آج بھی گروی رکھ دیتے ہیں،
اور جو ہمارے پاس ہے،
اس کی قدر ہم کتنی کرتے ہیں۔
زندگی کا ہر دن قیمتی ہے،
بچپن قیمتی ہے، جوانی قیمتی ہے
بڑھاپا قیمتی ہے ،زندگی کے ہر دور قیمتی ہے،
صحت قیمتی ہے، دوست قیمتی ہیں،
رشتہ دار اور قرابت والے قیمتی ہیں
اور سب سے بڑھ کر وقت قیمتی ہے
اور وقت پر کر لیئے جانے والے کام قیمتی ہیں۔
میں سوچتا ہوں کہ ایک دوست تھا،
ایک سچا دوست، ہمیشہ کام آنے والا،
ہمیشہ ساتھ دینے والا اور شاید سب سے قیمتی سہارا
۔۔۔۔۔ جیسے کوئی مخلص ولی تھا!
نہ آندھی آئی، نہ طوفان آیا،
نہ دل دھڑکا، نہ آنکھ جھپکی
بس اچانک سے زندگی نے اسے لاپتہ کر دیا۔
موت ایسی ہی ظالم چیز ہے ،
بے خبری میں آ جاتی ہے
اور آنکھوں کے سامنے
منظر غائب ہو جاتے ہیں
اور ایسے لگتا ہے جیسے پوری دنیا لٹ گئی ہو۔
زندگی کے بہترین سے بہترین تعلق
ایسے لاتعلق ہوتے ہیں کہ
سالوں تک یقین نہیں آتا
ایسا لگتا ہے کہ ہماری روح کا وزن
کسی نے اپنے کاندھوں پر اٹھایا ہوا تھا
اور اچانک سے اپنے وجود کی لاش
دوگنے وزن کے ساتھ
اپنی ہی روح پر آ گرتی ہے
اور پھر سنبھالے نہیں سنبھلتی
سائے پیچھے ہٹنے لگتے ہیں
اور سورج سر پر چمکنے لگتا ہے
پھر دھوپ ہی دھوپ!
اور ایسے ولی پھر نہیں ملتے
جو سر پر سایہ کیئے رکھیں!
اس سے پہلے کہ ہنستی مسکراتی زندگی
بے سہارا ہو اور اپنے ولیوں کو ترستی پھرے
اپنے اردگر اپنے بہترین دوستوں کی قدر کریں
ان سے رشتے مضبوط کریں
اور زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ
ضائع ہونے سے بچائیں،
اپنی زندگی کو خوشگوار بنائیں،
خود بھی خوش رہیں
اور دوسروں کی خوشی کی وجہ بنیں!
یقین مانیں یہ دنیا خوبصورت چمن ہے
اس سے پھول چنیں
اور کانٹوں کو نظر انداز کر دیں
کانٹے سمیٹنے سے دامن چھلنی ہوتے ہیں،
جبکہ پھول سمیٹنے سے آپ کا دامن خوشبو سے بھر جاتا ہے،
اپنی تلخیاں بھی کم کرنے کی کوشش کریں
اور اپنے اردگر کے لوگوں میں بھی تلخیاں کم کریں۔
ہم سب نے بہت دوست کھوئے ہوں گے،
مگر جو ہیں ان کی قدر کریں!
دعا گو!
تحریر: میاں وقارالاسلامShow More
زندگی کتنی تیزی سے گزر جاتی ہے،
ہم کتنے قیمتی لوگ کھو دیتے ہیں۔
جب وہ پاس ہوتے ہیں تو ان کی قیمت کا اندازہ نہیں لگا پاتے
اور جب دور ...چلے جاتے ہیں تو ہم گزرے وقت کو سوچتے ہیں
کہ کاش ان کے ساتھ تھوڑا اور وقت گزارا ہوتا،
ان کی اور باتیں سنی ہوتیں انہیں اور محسوس کیا ہوتا۔
مگر وقت اپنا صفحہ بدل چکا ہوتا ہے اور زندگی کی کہانی اور موڑ لے لیتی ہے۔
کتنے ہی موڑ ہماری زندگی میں آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں،
اور پھر ایک وقت آتا ہے،
جب ہم زندگی کے آخری موڑ پر کھڑے ہوتے ہیں۔
ہم عجیب ہیں،
ہم اپنی زندگی میں ایسے لوگوں کو اہمیت دیتے ہیں
جن سے ہماری زندگی کا خوشگوار پہلو منسلک ہی نہیں ہوتا،
ہم دشمنوں کے بارے میں زیادہ سوچتے ہیں،
ہم تکلیف دہ پہلوں کی طرف زیادہ دیکھتے ہیں۔
ہم ایسے راستے اور ایسے لوگوں کا تعین نہیں کرتے
جن راستوں پر چل کر یا جن لوگوں کے ساتھ وقت گزار کر
ہماری زندگی زیادہ بامعانی اور زیادہ پر مسرت ہو سکتی ہے۔
زندگی اتنی تکلیف دہ نہیں ،
جتنا تکلیف دہ اسے ہم خود بناتے ہیں
ہم کانٹے چنتے ہیں،
ہم زخم کریدتے ہیں،
ہم پھول کی طرف نہیں دیکھتے
ہم مرہم نہیں بنتے۔
ہم دکھ نہیں بانٹتے ،ہم غم گسار نہیں بنتے ،
ہم اس دنیا میں مصنوعی چیزیں ڈھونڈتے ہیں،
ہم اس دنیا کی حقیقت کو نہیں سمجھتے ،
ہم نعمتوں کا شمار نہیں کرتے ،
ہم نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرتے ،
ہمیں جو ملتا ہے ہم اس کی قدر نہیں کرتے۔
ہم خوشگوار زندگی گزارنے کے لیئے بہت محنت کرتے ہیں،
اتنی محنت کہ ہم اپنے کل کے لیئے اپنے آج کا سودا کرتے ہیں،
اور یہ سودا ہمیں بہت مہنگا پڑتا ہے،
کل کبھی نہیں آتا اور ہم اپنا آج بھی کھو دیتے ہیں۔
اچھے کل کے لیئے ہمیں اپنا آج بہتر کرنا ہے،
جیسا ہمارا آج ہو گا ویسا ہی کل ہمارا استقبال کرے گا ،
اور اگر ہم آج کی فکر نہیں کریں گے
تو ہمارا کل بھی ہماری فکر نہیں کرے گا۔
جو ہمارے پاس آنا ہے ہمیں اس کی اتنی قدر ہے ،
کہ ہم اپنا آج بھی گروی رکھ دیتے ہیں،
اور جو ہمارے پاس ہے،
اس کی قدر ہم کتنی کرتے ہیں۔
زندگی کا ہر دن قیمتی ہے،
بچپن قیمتی ہے، جوانی قیمتی ہے
بڑھاپا قیمتی ہے ،زندگی کے ہر دور قیمتی ہے،
صحت قیمتی ہے، دوست قیمتی ہیں،
رشتہ دار اور قرابت والے قیمتی ہیں
اور سب سے بڑھ کر وقت قیمتی ہے
اور وقت پر کر لیئے جانے والے کام قیمتی ہیں۔
میں سوچتا ہوں کہ ایک دوست تھا،
ایک سچا دوست، ہمیشہ کام آنے والا،
ہمیشہ ساتھ دینے والا اور شاید سب سے قیمتی سہارا
۔۔۔۔۔ جیسے کوئی مخلص ولی تھا!
نہ آندھی آئی، نہ طوفان آیا،
نہ دل دھڑکا، نہ آنکھ جھپکی
بس اچانک سے زندگی نے اسے لاپتہ کر دیا۔
موت ایسی ہی ظالم چیز ہے ،
بے خبری میں آ جاتی ہے
اور آنکھوں کے سامنے
منظر غائب ہو جاتے ہیں
اور ایسے لگتا ہے جیسے پوری دنیا لٹ گئی ہو۔
زندگی کے بہترین سے بہترین تعلق
ایسے لاتعلق ہوتے ہیں کہ
سالوں تک یقین نہیں آتا
ایسا لگتا ہے کہ ہماری روح کا وزن
کسی نے اپنے کاندھوں پر اٹھایا ہوا تھا
اور اچانک سے اپنے وجود کی لاش
دوگنے وزن کے ساتھ
اپنی ہی روح پر آ گرتی ہے
اور پھر سنبھالے نہیں سنبھلتی
سائے پیچھے ہٹنے لگتے ہیں
اور سورج سر پر چمکنے لگتا ہے
پھر دھوپ ہی دھوپ!
اور ایسے ولی پھر نہیں ملتے
جو سر پر سایہ کیئے رکھیں!
اس سے پہلے کہ ہنستی مسکراتی زندگی
بے سہارا ہو اور اپنے ولیوں کو ترستی پھرے
اپنے اردگر اپنے بہترین دوستوں کی قدر کریں
ان سے رشتے مضبوط کریں
اور زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ
ضائع ہونے سے بچائیں،
اپنی زندگی کو خوشگوار بنائیں،
خود بھی خوش رہیں
اور دوسروں کی خوشی کی وجہ بنیں!
یقین مانیں یہ دنیا خوبصورت چمن ہے
اس سے پھول چنیں
اور کانٹوں کو نظر انداز کر دیں
کانٹے سمیٹنے سے دامن چھلنی ہوتے ہیں،
جبکہ پھول سمیٹنے سے آپ کا دامن خوشبو سے بھر جاتا ہے،
اپنی تلخیاں بھی کم کرنے کی کوشش کریں
اور اپنے اردگر کے لوگوں میں بھی تلخیاں کم کریں۔
ہم سب نے بہت دوست کھوئے ہوں گے،
مگر جو ہیں ان کی قدر کریں!
دعا گو!
تحریر: میاں وقارالاسلامShow More

Now Playing
Story of Marvel System | 28 Years of Excellence Over the past 28 ...
Story of Marvel System | 28 Years of Excellence
Over the past 28 years, Marvel System has established itself as a leading provider of strategic business advice and guidance to organizations ...across various industries. Here is a summary of the our remarkable success story:
Founding and Vision (Year 1-5): Marvel System was founded by Mian Waqar ul Islam in 1995, with a vision to assist companies in achieving their growth and profitability goals. Marvel System believed in offering personalized, client-centric services tailored to each organization’s unique needs.
Building Expertise and Client Base (Year 6-10): Marvel System focused on building a team of highly skilled professionals with diverse backgrounds and expertise in areas such as company registration, patents & trade marks, curriculum development, graphics designing, branding & packaging, staffing & HR development, marketing research, business promotion, corporate financing, local and int’l franchising, licensing programs, professional training, research & development, corporate digitizing, re-engineering and globalization (globalizing). Marvel System also worked diligently to expand its client base by delivering exceptional results and fostering strong relationships.
Reputation and Referrals (Year 11-15): Through consistent delivery of high-quality services, Marvel System earned a reputation for excellence within the industry. Satisfied clients began referring Marvel System to other companies, leading to a significant increase in new business opportunities.
Expansion of Services (Year 16-20): As Marvel System’s expertise grew, we expanded our service offerings to meet the evolving needs of our clients. Marvel System introduced specialized consulting services in areas such as digital transformation, organizational development, risk management, and sustainability, positioning themselves as a comprehensive business consultancy firm.
Geographic Expansion (Year 21-25): Recognizing the potential for growth beyond our initial location, Marvel System strategically expanded its operations to other cities and even internationally. Marvel System maintained collaborative fronts, hired local experts, and adapted their services to suit different markets, successfully establishing a global presence.
Thought Leadership and Industry Recognition (Year 26-Now): Marvel System’s consultants actively engaged in thought leadership initiatives, publishing articles, conducting seminars, and speaking at industry conferences. Marvel System expertise and insights gained widespread recognition, further enhancing its credibility and attracting high-profile clients.
Embracing Technology and Innovation: Marvel System consistently embraced technological advancements and incorporated innovative solutions into its consulting approach. Marvel System leveraged data analytics, artificial intelligence, and automation to deliver more accurate analysis, streamline processes, and provide cutting-edge recommendations.
Client Success Stories: Over the years, Marvel System has helped numerous clients achieve significant milestones. These success stories have contributed to Marvel System’s reputation and word-of-mouth referrals, establishing it as a trusted partner in driving business growth.
Strong Team Culture: Marvel System prioritized fostering a positive and collaborative work culture, investing in its team members’ professional development, and creating an environment that encourages creativity and innovation. This approach helped Marvel System to attract top talent and retain experienced consultants, ensuring consistent quality in its service delivery.
Long-Term Partnerships: Rather than pursuing short-term gains, Marvel System focused on building long-term partnerships with its clients. Marvel System maintained ongoing relationships, providing continuous support and adapting its strategies to meet changing market dynamics, leading to mutual success.
Through unwavering commitment to client satisfaction, expertise, innovation, and strategic expansion, Marvel System has experienced remarkable growth and established itself as a leading player in the business consultancy industry over the past 28 years.
Thanks for your cooperation!
Regards,
Mian Waqar ul Islam
Principal Consultant | Marvel System
Visit | http://www.marvelsystem.com
Founder | Waqar-e-Pakistan
Visit | http://www.waqarpk.com
Call / Whatsapp | +92 300 410 2774
E-mail | mianwaqarpk@yahoo.com
Facebook | http://www.fb.com/waqarpkcomShow More
Over the past 28 years, Marvel System has established itself as a leading provider of strategic business advice and guidance to organizations ...across various industries. Here is a summary of the our remarkable success story:
Founding and Vision (Year 1-5): Marvel System was founded by Mian Waqar ul Islam in 1995, with a vision to assist companies in achieving their growth and profitability goals. Marvel System believed in offering personalized, client-centric services tailored to each organization’s unique needs.
Building Expertise and Client Base (Year 6-10): Marvel System focused on building a team of highly skilled professionals with diverse backgrounds and expertise in areas such as company registration, patents & trade marks, curriculum development, graphics designing, branding & packaging, staffing & HR development, marketing research, business promotion, corporate financing, local and int’l franchising, licensing programs, professional training, research & development, corporate digitizing, re-engineering and globalization (globalizing). Marvel System also worked diligently to expand its client base by delivering exceptional results and fostering strong relationships.
Reputation and Referrals (Year 11-15): Through consistent delivery of high-quality services, Marvel System earned a reputation for excellence within the industry. Satisfied clients began referring Marvel System to other companies, leading to a significant increase in new business opportunities.
Expansion of Services (Year 16-20): As Marvel System’s expertise grew, we expanded our service offerings to meet the evolving needs of our clients. Marvel System introduced specialized consulting services in areas such as digital transformation, organizational development, risk management, and sustainability, positioning themselves as a comprehensive business consultancy firm.
Geographic Expansion (Year 21-25): Recognizing the potential for growth beyond our initial location, Marvel System strategically expanded its operations to other cities and even internationally. Marvel System maintained collaborative fronts, hired local experts, and adapted their services to suit different markets, successfully establishing a global presence.
Thought Leadership and Industry Recognition (Year 26-Now): Marvel System’s consultants actively engaged in thought leadership initiatives, publishing articles, conducting seminars, and speaking at industry conferences. Marvel System expertise and insights gained widespread recognition, further enhancing its credibility and attracting high-profile clients.
Embracing Technology and Innovation: Marvel System consistently embraced technological advancements and incorporated innovative solutions into its consulting approach. Marvel System leveraged data analytics, artificial intelligence, and automation to deliver more accurate analysis, streamline processes, and provide cutting-edge recommendations.
Client Success Stories: Over the years, Marvel System has helped numerous clients achieve significant milestones. These success stories have contributed to Marvel System’s reputation and word-of-mouth referrals, establishing it as a trusted partner in driving business growth.
Strong Team Culture: Marvel System prioritized fostering a positive and collaborative work culture, investing in its team members’ professional development, and creating an environment that encourages creativity and innovation. This approach helped Marvel System to attract top talent and retain experienced consultants, ensuring consistent quality in its service delivery.
Long-Term Partnerships: Rather than pursuing short-term gains, Marvel System focused on building long-term partnerships with its clients. Marvel System maintained ongoing relationships, providing continuous support and adapting its strategies to meet changing market dynamics, leading to mutual success.
Through unwavering commitment to client satisfaction, expertise, innovation, and strategic expansion, Marvel System has experienced remarkable growth and established itself as a leading player in the business consultancy industry over the past 28 years.
Thanks for your cooperation!
Regards,
Mian Waqar ul Islam
Principal Consultant | Marvel System
Visit | http://www.marvelsystem.com
Founder | Waqar-e-Pakistan
Visit | http://www.waqarpk.com
Call / Whatsapp | +92 300 410 2774
E-mail | mianwaqarpk@yahoo.com
Facebook | http://www.fb.com/waqarpkcomShow More

Now Playing
#AAJKIBAAT #AAJ_KI_BAAT #DRSHAHNAZMUZAMMIL #MADER_E_DABISTAN_E_LAHORE ...
#AAJKIBAAT #AAJ_KI_BAAT
#DRSHAHNAZMUZAMMIL
#MADER_E_DABISTAN_E_LAHORE
#ADAB_SARAAE_INTERNATIONAL
#MODEL_TOWN_LAHORE_PAKISTAN
#PH_92_300_4275692
22-11-2019 - B
#DRSHAHNAZMUZAMMIL
#MADER_E_DABISTAN_E_LAHORE
#ADAB_SARAAE_INTERNATIONAL
#MODEL_TOWN_LAHORE_PAKISTAN
#PH_92_300_4275692
22-11-2019 - B

Now Playing

Now Playing
STORY OF MARVEL SYSTEM 28 Years of Excellence Over the past 28 years, ...
STORY OF MARVEL SYSTEM
28 Years of Excellence
Over the past 28 years, Marvel System has established itself as a leading provider of strategic business advice and guidance to organizations ...across various industries. Here is a summary of the our remarkable success story:
Founding and Vision (Year 1-5):
Marvel System was founded by Mian Waqar ul Islam in 1995, with a vision to assist companies in achieving their growth and profitability goals. Marvel System believed in offering personalized, client-centric services tailored to each organization's unique needs.
Building Expertise and Client Base (Year 6-10):
Marvel System focused on building a team of highly skilled professionals with diverse backgrounds and expertise in areas such as company registration, patents & trade marks, curriculum development, graphics designing, branding & packaging, staffing & HR development, marketing research, business promotion, corporate financing, local and int’l franchising, licensing programs, professional training, research & development, corporate digitizing, re-engineering and globalization (globalizing). Marvel System also worked diligently to expand its client base by delivering exceptional results and fostering strong relationships.
Reputation and Referrals (Year 11-15):
Through consistent delivery of high-quality services, Marvel System earned a reputation for excellence within the industry. Satisfied clients began referring Marvel System to other companies, leading to a significant increase in new business opportunities.
Expansion of Services (Year 16-20):
As Marvel System’s expertise grew, we expanded our service offerings to meet the evolving needs of our clients. Marvel System introduced specialized consulting services in areas such as digital transformation, organizational development, risk management, and sustainability, positioning themselves as a comprehensive business consultancy firm.
Geographic Expansion (Year 21-25):
Recognizing the potential for growth beyond our initial location, Marvel System strategically expanded its operations to other cities and even internationally. Marvel System maintained collaborative fronts, hired local experts, and adapted their services to suit different markets, successfully establishing a global presence.
Thought Leadership and Industry Recognition (Year 26-Now):
Marvel System's consultants actively engaged in thought leadership initiatives, publishing articles, conducting seminars, and speaking at industry conferences. Marvel System expertise and insights gained widespread recognition, further enhancing its credibility and attracting high-profile clients.
Embracing Technology and Innovation:
Marvel System consistently embraced technological advancements and incorporated innovative solutions into its consulting approach. Marvel System leveraged data analytics, artificial intelligence, and automation to deliver more accurate analysis, streamline processes, and provide cutting-edge recommendations.
Client Success Stories:
Over the years, Marvel System has helped numerous clients achieve significant milestones. These success stories have contributed to Marvel System’s reputation and word-of-mouth referrals, establishing it as a trusted partner in driving business growth.
Strong Team Culture:
Marvel System prioritized fostering a positive and collaborative work culture, investing in its team members’ professional development, and creating an environment that encourages creativity and innovation. This approach helped Marvel System to attract top talent and retain experienced consultants, ensuring consistent quality in its service delivery.
Long-Term Partnerships:
Rather than pursuing short-term gains, Marvel System focused on building long-term partnerships with its clients. Marvel System maintained ongoing relationships, providing continuous support and adapting its strategies to meet changing market dynamics, leading to mutual success.
Through unwavering commitment to client satisfaction, expertise, innovation, and strategic expansion, Marvel System has experienced remarkable growth and established itself as a leading player in the business consultancy industry over the past 28 years.
Thanks for your cooperation!
Regards,
Mian Waqar ul Islam
Principal Consultant | Marvel System
Visit | http://www.marvelsystem.com
Founder | Waqar-e-Pakistan
Visit | http://www.waqarpk.com
Call / Whatsapp | +92 300 410 2774
E-mail | mianwaqarpk@yahoo.com
Facebook | fb.com/waqarpkcomShow More
28 Years of Excellence
Over the past 28 years, Marvel System has established itself as a leading provider of strategic business advice and guidance to organizations ...across various industries. Here is a summary of the our remarkable success story:
Founding and Vision (Year 1-5):
Marvel System was founded by Mian Waqar ul Islam in 1995, with a vision to assist companies in achieving their growth and profitability goals. Marvel System believed in offering personalized, client-centric services tailored to each organization's unique needs.
Building Expertise and Client Base (Year 6-10):
Marvel System focused on building a team of highly skilled professionals with diverse backgrounds and expertise in areas such as company registration, patents & trade marks, curriculum development, graphics designing, branding & packaging, staffing & HR development, marketing research, business promotion, corporate financing, local and int’l franchising, licensing programs, professional training, research & development, corporate digitizing, re-engineering and globalization (globalizing). Marvel System also worked diligently to expand its client base by delivering exceptional results and fostering strong relationships.
Reputation and Referrals (Year 11-15):
Through consistent delivery of high-quality services, Marvel System earned a reputation for excellence within the industry. Satisfied clients began referring Marvel System to other companies, leading to a significant increase in new business opportunities.
Expansion of Services (Year 16-20):
As Marvel System’s expertise grew, we expanded our service offerings to meet the evolving needs of our clients. Marvel System introduced specialized consulting services in areas such as digital transformation, organizational development, risk management, and sustainability, positioning themselves as a comprehensive business consultancy firm.
Geographic Expansion (Year 21-25):
Recognizing the potential for growth beyond our initial location, Marvel System strategically expanded its operations to other cities and even internationally. Marvel System maintained collaborative fronts, hired local experts, and adapted their services to suit different markets, successfully establishing a global presence.
Thought Leadership and Industry Recognition (Year 26-Now):
Marvel System's consultants actively engaged in thought leadership initiatives, publishing articles, conducting seminars, and speaking at industry conferences. Marvel System expertise and insights gained widespread recognition, further enhancing its credibility and attracting high-profile clients.
Embracing Technology and Innovation:
Marvel System consistently embraced technological advancements and incorporated innovative solutions into its consulting approach. Marvel System leveraged data analytics, artificial intelligence, and automation to deliver more accurate analysis, streamline processes, and provide cutting-edge recommendations.
Client Success Stories:
Over the years, Marvel System has helped numerous clients achieve significant milestones. These success stories have contributed to Marvel System’s reputation and word-of-mouth referrals, establishing it as a trusted partner in driving business growth.
Strong Team Culture:
Marvel System prioritized fostering a positive and collaborative work culture, investing in its team members’ professional development, and creating an environment that encourages creativity and innovation. This approach helped Marvel System to attract top talent and retain experienced consultants, ensuring consistent quality in its service delivery.
Long-Term Partnerships:
Rather than pursuing short-term gains, Marvel System focused on building long-term partnerships with its clients. Marvel System maintained ongoing relationships, providing continuous support and adapting its strategies to meet changing market dynamics, leading to mutual success.
Through unwavering commitment to client satisfaction, expertise, innovation, and strategic expansion, Marvel System has experienced remarkable growth and established itself as a leading player in the business consultancy industry over the past 28 years.
Thanks for your cooperation!
Regards,
Mian Waqar ul Islam
Principal Consultant | Marvel System
Visit | http://www.marvelsystem.com
Founder | Waqar-e-Pakistan
Visit | http://www.waqarpk.com
Call / Whatsapp | +92 300 410 2774
E-mail | mianwaqarpk@yahoo.com
Facebook | fb.com/waqarpkcomShow More

Now Playing

Now Playing

Now Playing

Now Playing

Now Playing

Now Playing

Now Playing

Now Playing

Now Playing

Now Playing

Now Playing
#podcast #poetry #drshahnazmuzamil الحمدللہ "مادرِدبستانِ ...
#podcast #poetry #drshahnazmuzamil
الحمدللہ
"مادرِدبستانِ لاہور،نازِپاکستان چیئرپرسن ادب سرائے انٹرنیشنل ڈاکٹر شہناز مزمل صاحبہ کے ساتھ پوڈکاسٹ"
آپ اردو ادب کا ایک بہت بڑا نام ہیں
اردو ادب سے تعلق رکھنے والا ہر ...چھوٹا بڑا آپ کی ادبی خدمات سے واقف ہے۔
آپ کئی کتب کی خالق اور ایک ایسا خوبصورت کارنامہ سر انجام دینے والی دنیا کی پہلی خاتون ہیں ایک ایسا عمل قابلِ رشک ،قابلِ دید ، قابلِ تحسین اور قابلِ تعریف عمل قرآنِ کریم فُرقانِ حمید کا منظوم مفہوم کرنے والی پہلی شخصیت ہیں
اس پوڈکاسٹ میں ایسی شخصیت کے روبرو ہوں ۔ جو میرے لیے کئی اعتبار سے خاص ہیں۔یہ میری استاد بھی ہیں اور پھپھو جان بھی ہیں۔میں نے اپنی مختصر ادبی زندگی میں جتنے پڑاؤ دیکھے ہیں جتنی مشکلات دیکھی ہیں جہاں جہاں سے میں گزرا ہوں ۔ ہر مشکل وقت میں یہ ہستی میری رہنمائی کے لیے موجود تھیں ۔ میری پہلی کتاب سوچ کا سفر میں ان کا دست شفقت ہمیشہ میرے سر پر رہا ہے۔
یہ ادبی دنیا کا ایک معتبر معروف اور مقبول نام ہیں۔شاعری کرتی ہیں اور اللہ کریم کی ذات کا ان پر خاص کرم و فضل رہا ہے کہ ان سے اللہ نے ایسا کام لیا ہے جو دہائیوں میں کسی ایک کے حصے میں آتا ہے۔کئ پہلوؤں پر گفتگو کی گئی ہے جلد ہی میرے چینل zaifiyat پر اپلوڈ کر دی جائے گی۔
اس پوڈکاسٹ کو انجام دینے میں ٹیم کا دل سے شکر گزار ہوں جس میں سرِ فہرست استادِ محترم صہیب مرزا صاحب ہیں،سرگودھا سے صاحبزادی عائشہ معصوم کانٹینٹ میں مدد کرتی رہتی ہیں بڑے بھائی پیرزادہ محمد عمر عاصمی،صاحبزادہ احمد رضا عاصمی،صاحبزادہ ذیشان یاسین اور قاسم عبدالخالق انکا ساتھ مجھے ایک الگ جذبہ دیتا ہے 💕
#podcast #zaifiyat #huzaifaashrafasmi #drshahnazmuzamil #adabsarayint
FB:https://www.facebook.com/huzaifaashrafasmi92
FB PAGE:https://www.facebook.com/huzaifaashrafasmi/
INSTAGRAM:https://www.instagram.com/its_huzaifa_asmi/Show More
الحمدللہ
"مادرِدبستانِ لاہور،نازِپاکستان چیئرپرسن ادب سرائے انٹرنیشنل ڈاکٹر شہناز مزمل صاحبہ کے ساتھ پوڈکاسٹ"
آپ اردو ادب کا ایک بہت بڑا نام ہیں
اردو ادب سے تعلق رکھنے والا ہر ...چھوٹا بڑا آپ کی ادبی خدمات سے واقف ہے۔
آپ کئی کتب کی خالق اور ایک ایسا خوبصورت کارنامہ سر انجام دینے والی دنیا کی پہلی خاتون ہیں ایک ایسا عمل قابلِ رشک ،قابلِ دید ، قابلِ تحسین اور قابلِ تعریف عمل قرآنِ کریم فُرقانِ حمید کا منظوم مفہوم کرنے والی پہلی شخصیت ہیں
اس پوڈکاسٹ میں ایسی شخصیت کے روبرو ہوں ۔ جو میرے لیے کئی اعتبار سے خاص ہیں۔یہ میری استاد بھی ہیں اور پھپھو جان بھی ہیں۔میں نے اپنی مختصر ادبی زندگی میں جتنے پڑاؤ دیکھے ہیں جتنی مشکلات دیکھی ہیں جہاں جہاں سے میں گزرا ہوں ۔ ہر مشکل وقت میں یہ ہستی میری رہنمائی کے لیے موجود تھیں ۔ میری پہلی کتاب سوچ کا سفر میں ان کا دست شفقت ہمیشہ میرے سر پر رہا ہے۔
یہ ادبی دنیا کا ایک معتبر معروف اور مقبول نام ہیں۔شاعری کرتی ہیں اور اللہ کریم کی ذات کا ان پر خاص کرم و فضل رہا ہے کہ ان سے اللہ نے ایسا کام لیا ہے جو دہائیوں میں کسی ایک کے حصے میں آتا ہے۔کئ پہلوؤں پر گفتگو کی گئی ہے جلد ہی میرے چینل zaifiyat پر اپلوڈ کر دی جائے گی۔
اس پوڈکاسٹ کو انجام دینے میں ٹیم کا دل سے شکر گزار ہوں جس میں سرِ فہرست استادِ محترم صہیب مرزا صاحب ہیں،سرگودھا سے صاحبزادی عائشہ معصوم کانٹینٹ میں مدد کرتی رہتی ہیں بڑے بھائی پیرزادہ محمد عمر عاصمی،صاحبزادہ احمد رضا عاصمی،صاحبزادہ ذیشان یاسین اور قاسم عبدالخالق انکا ساتھ مجھے ایک الگ جذبہ دیتا ہے 💕
#podcast #zaifiyat #huzaifaashrafasmi #drshahnazmuzamil #adabsarayint
FB:https://www.facebook.com/huzaifaashrafasmi92
FB PAGE:https://www.facebook.com/huzaifaashrafasmi/
INSTAGRAM:https://www.instagram.com/its_huzaifa_asmi/Show More

Now Playing
Chairperson Adab Saraae International | Dr. Shahnaz Muzammil | Noor e ...
Chairperson Adab Saraae International | Dr. Shahnaz Muzammil | Noor e Furqan
#drshahnazmuzammil #adabsaraaeinternational #adab #international #modeltown
#drshahnazmuzammil #adabsaraaeinternational #adab #international #modeltown

Now Playing
چشمِ آوارہ اے چشمِ آوارہ تو چشمِ تَر میں ڈُوب جائے گی تو کہاں جائے گی ...
چشمِ آوارہ
اے چشمِ آوارہ
تو چشمِ تَر میں
ڈُوب جائے گی
تو کہاں جائے گی
دل کے ِرشتوں کی
اَگر مگر میں
ڈوب جائے گی
تو کہاں جائے گی
یہ زیرِ جوبن
پڑی مدھوشیاں
یہ َادا میں اُمنڈتی شوخیاں
یہ ...مغرور سی طبیعت
لڑکھڑاتے ڈگمگاتے
بے سہارا
جذبوں کی لہر میں
ڈوب جائے گی
تو کہاں جائے گی
یونہی چلتے پھرتے
کسی دن
شام کے وقت
سوچ کی وادیوں میں
کہیں
مجھے دیکھ کے
چونکے گی
پچھلے پہر میں
ڈُوب جائے گی
تو کہاں جائے گی
اے حسرتِ دلِ ناداں
تجھے بَر آنا ہے
تو اُٹھ جا
حالات سے لڑنا سیکھ
یہ داستان عشق بھی
رواج کے بھنور میں
ڈُوب جائے گی
تو کہاں جائے گی
ہاں اور ناں کی
زنجیر سے تم
باندھے رکھنا خیالوں کو
زندگی اسی کشمکش
کی زِیر و زَبر میں
ڈُوب جائے گی
تو کہاں جائے گی
اے چشمِ آوارہ
تو چشمِ تَر میں
ڈُوب جائے گی
تو کہاں جائے گی
دل کے ِرشتوں کی
اَگر مگر میں
ڈُوب جائے گی
تو کہاں جائے گی
۔۔شاعر: میاں وقارالاسلام
تصنیف: من کٹہراShow More
اے چشمِ آوارہ
تو چشمِ تَر میں
ڈُوب جائے گی
تو کہاں جائے گی
دل کے ِرشتوں کی
اَگر مگر میں
ڈوب جائے گی
تو کہاں جائے گی
یہ زیرِ جوبن
پڑی مدھوشیاں
یہ َادا میں اُمنڈتی شوخیاں
یہ ...مغرور سی طبیعت
لڑکھڑاتے ڈگمگاتے
بے سہارا
جذبوں کی لہر میں
ڈوب جائے گی
تو کہاں جائے گی
یونہی چلتے پھرتے
کسی دن
شام کے وقت
سوچ کی وادیوں میں
کہیں
مجھے دیکھ کے
چونکے گی
پچھلے پہر میں
ڈُوب جائے گی
تو کہاں جائے گی
اے حسرتِ دلِ ناداں
تجھے بَر آنا ہے
تو اُٹھ جا
حالات سے لڑنا سیکھ
یہ داستان عشق بھی
رواج کے بھنور میں
ڈُوب جائے گی
تو کہاں جائے گی
ہاں اور ناں کی
زنجیر سے تم
باندھے رکھنا خیالوں کو
زندگی اسی کشمکش
کی زِیر و زَبر میں
ڈُوب جائے گی
تو کہاں جائے گی
اے چشمِ آوارہ
تو چشمِ تَر میں
ڈُوب جائے گی
تو کہاں جائے گی
دل کے ِرشتوں کی
اَگر مگر میں
ڈُوب جائے گی
تو کہاں جائے گی
۔۔شاعر: میاں وقارالاسلام
تصنیف: من کٹہراShow More
1
of 3





