WAQAR-E-PAKISTAN

TOP VIDEO COLLECTION

مضمون: منفرد شخصیت، انفرادی کتاب
تحریر: میاں وقارالاسلام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تصنیف: میں اور مفتی جی
مصنفہ: محترمہ فرحین چودھری
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زندگی میں کچھ لوگوں کی اہمیت زندگی سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔ ایسے لوگ زندگی کو
جینے کا مقصد دیتے ہیں۔

زندگی کو اور خوبصورت اور بامعانی بناتے ہیں۔ انسان بہت سے انسانوں سے سیکھتا اور سمجھتا ہے۔
مگر کچھ انسان اپنے اندر ایک درس گاہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔

جب میں نے مفتی جی کے بارے میں پڑھا، اور یہ بھی پڑھا کے مفتی جی شہاب صاحب کے پیچھے تھے اور شہاب صاحب مفتی جی کے پیچھے تھے ۔

اور ان عظیم ہستیوں کا یوں ایک دوسرے کے آگے پیچھے ہونا ایک تو علم، ادب اور روحانیت کی وجہ سے تھا، اور دوسرا تعلق پاکستان سے دل و جان سے محبت کی وجہ سے بھی تھا۔

تو ان کے احوال جو محترمہ فرحین چودھری نے بڑی تفصیل سے بیان کئے ہیں اور محترمہ فرحین چودھری نے جس محبت اور عقیدت سے ان احوال کو قلم بند کیا ہے، مجھے تو یہ بھی کوئی پہنچی ہوئی عظیم ہستی معلوم ہوتی ہیں۔

تو یقینا یہاں دو ہستیوں کے باب نہیں کھلتے بلکہ اس ہستی کا باب بھی کھلتا ہے جس نے یہ پوری داستان اپنی آنکھوں سے دیکھی ہے اور اس داستان کے ہر حصہ پر نظر رکھی ہے۔

نہ صرف نظر رکھی ہے بلکہ اپنی محبت اور عقیدت بھی پیش کی ہے اور یہی محبت اور عقیدت کا جذبہ ان کی تحریر میں اور ان کے اندازِ بیاں میں صاف جھلکتا ہے۔

کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ لکھنے والا کچھ اور لکھ رہا ہوتا ہے مگر اس کا اندازِ بیاں کچھ اور کہنے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے۔

جیسے کہ محبت سے بھری ایک زندہ تصویر ہو، جو منہ سے تو انکار کر رہی ہو مگر اس کی آنکھوں سے چھلکے ہوئے سچے موتی اس کی سچی محبت کا پورا پورا اقرار کر رہے ہوں۔

محترمہ فرحین چودھری، اپنی تحریر میں جہاں جہاں مفتی جی کا ذکر کرتی نظر آتی ہیں وہیں وہیں، ان کے اردگر پڑی ہوئی چیزوں، مفتی جی سے جُڑے ہوئے رشتوں کو بھی پوری پوری اہمیت دیتی نظر آتی ہیں۔

محترمہ فرحین چودھری کو مہارت حاصل ہوئی ہے کہ وہ معمولی سے معمولی چیز کو غیر معمولی کرتی چلی گئی ہیں۔

یہی بات ان کے تجسس اور ان کی بیقراری کو ظاہر کرتی ہے۔ اگر تجسس اور بے قراری نہ ہو تو انسان دنیا کے اچھے سے اچھے ماہر استاد سے بھی کچھ نہیں سیکھ پاتا۔

محترمہ فرحین چودھری کا تجسس اور ان کی بے قراری بتاتی ہے کہہ انہوں نے اپنے وقت کے ضائع نہیں کیا اور اپنے وقت سے اتنا ہی سیکھا ہے جتنا سیکھا جا سکتا تھا۔ اور پھر عظیم مرشد کا انتخاب تو انسان کو ولی بنا کر ہی چھوڑتا ہے۔

یہ بھی سچ ہے کہ روحانی تعلق کبھی نہیں ٹوٹتے ۔ یہ روحانی تعلق ہی تو ہے کہ ہم ایک امت ہیں اور ایک رسول سے جڑے ہوئے ہیں اور اتنے گہرے جڑے ہوئے ہیں کہ اس کی عظمت اور توقیر کے لیے اپنی جان بھی دے سکتے ہیں۔

بزرگ ہستیوں کے ساتھ بھی روحانی تعلق رہتے ہیں، بزرگ ہستیاں جو محبت اپنے چاہنے والوں میں بانٹ جاتی ہیں وہ محبت ان کے چاہنے والوں کی شخصیت کی اساس بنتی ہے، اور جب ان کے چاہنے والوں کے پاس بیٹھتے ہیں تو ان کے بزرگوں کی خوشبو ان سے محسوس ہوتی ہے۔

مفتی جی آج ہم میں نہیں ہیں، مگر مفتی جی کا علم، ان کا ادب اور ان کی روحانی اساس ان کے چاہنے والوں کے دلوں میں محفوظ ہے۔

جیسا کہ محترمہ فرحین چودھری جی کو ہی لے لیجئے، ان کی مفتی جی پر لکھی ہوئی کتا ب اس بات کی گواہی دے رہی ہے کہ انہوں نے مفتی جی کا علم،ان کا ادب اور ان کی روحانی اساس ، سب کو اپنے سینے میں سنبھال کر رکھا ہوا ہے، اور یہ سب کچھ اب قلم کے زریعے باہر آنا چاہتا ہے۔

محترمہ فرحین چودھری کو مفتی جی سے محبت ملی ہے ، اور مجھے وہی محبت ان کی کتاب "مفتی جی" کے ذریعے ملی ہے۔ یقیناَ یہ کتاب جہاں جہاں جائے گی اپنی محبت کا پیغام اپنے ساتھ لے کر جائے گی۔

محترمہ فرحین چودھری صاحبہ کے لیے دعائیں اور نیک خواہشات، دعا گو، میاں وقارالاسلام، فاؤنڈر وقارِپاکستان، پرنسپل کنسلٹینٹ ، مارول سسٹم۔

http://www.waqarpk.com & http://www.marvelsystem.com
Show More
1 of 2 Next