خصوصی انٹرویو: میڈیا، ادب اور عالمی ثقافتی سفارتکاری کا سنگم
​فرحین چوہدری کی میاں وقار الاسلام سے خصوصی گفتگو
​مہمان: فرحین چوہدری (چیئرپرسن LACS، سینئر اسکرپٹ رائٹر، اور انٹرنیشنل لٹریری ایمبیسیڈر)
میزبان: میاں وقار الاسلام (بانی: وقارِ پاکستان)
​تعارفی کلمات
​میزبان: آج ہمارے ساتھ ایک ایسی ہمہ جہت شخصیت موجود ہیں جن کی پہچان کسی ایک شعبے تک محدود نہیں۔ فرحین چوہدری صاحبہ نے قائدِ اعظم یونیورسٹی سے بین الاقوامی تعلقات (IR) میں ایم ایس سی کیا اور اپنے 25 سالہ طویل کیریئر میں تعلیم، بینکنگ، میڈیا مینجمنٹ اور ادب میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ وہ نہ صرف ایک کامیاب ڈرامہ نگار ہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی ایک توانا آواز بھی ہیں۔ آئیے ان کے تجربات سے استفادہ کرتے ہیں۔
​انٹرویو کے مندرجات
​سوال 1: فرحین صاحبہ، آپ کے کیریئر کا آغاز بہت متنوع رہا۔ آپ نے بینکنگ اور تعلیم سے میڈیا تک کا سفر کیسے طے کیا؟
فرحین چوہدری: میرا تعلیمی سفر آئی آر (International Relations) سے شروع ہوا جس نے مجھے دنیا کو دیکھنے کا ایک وسیع تناظر دیا۔ میں نے زرعی ترقیاتی بینک (ADBP) میں بطور اسسٹنٹ ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز اور فارن اسسٹنس کام کیا، جہاں میرا واسطہ ورلڈ بینک اور ایشین ڈیولپمنٹ بینک جیسے اداروں سے رہا۔ ساتھ ہی میں نے او پی ایف (OPF) یونیورسٹی میں تدریسی خدمات بھی انجام دیں۔ لیکن میرا اصل رجحان ہمیشہ سے ابلاغِ عامہ اور تخلیق کی طرف تھا، یہی وجہ تھی کہ میں نے جلد ہی خود کو میڈیا اور ادب کے لیے وقف کر دیا۔
​سوال 2: آپ ‘اسٹار ایشیا’ اور ‘پنجاب ٹی وی’ میں اسٹیشن ہیڈ رہیں۔ ایک انتظامی سربراہ کے طور پر آپ کی کیا ذمہ داریاں تھیں؟
فرحین چوہدری: بطور اسٹیشن ہیڈ اسلام آباد، میری ذمہ داری مارکیٹنگ، پروڈکشن اور مجموعی انتظامیہ کی نگرانی تھی۔ میں نے ‘کیپٹل پوائنٹ’ جیسا سیاسی ٹاک شو شروع کیا جس میں مقتدر شخصیات کے انٹرویوز کیے۔ میرا مقصد ہمیشہ یہ رہا کہ میڈیا کو صرف تفریح کے بجائے شعور و آگاہی کا ذریعہ بنایا جائے۔
​سوال 3: آپ کے اسکرپٹ رائٹنگ کے سفر میں ‘پانی پہ نام’ کی کامیابی کا بہت تذکرہ ہوتا ہے۔ اس کے بارے میں کچھ بتائیں؟
فرحین چوہدری: ‘پانی پہ نام’ ایک ایسا ڈرامہ سیریل تھا جس نے بین الاقوامی سطح پر توجہ حاصل کی اور اسے لکس اسٹائل انٹرنیشنل ایوارڈ (Lux Style Award) کے لیے نامزد کیا گیا۔ یہ میرے لیے ایک سنگ میل ثابت ہوا۔
​سوال 4: آپ نے بین الاقوامی اداروں جیسے UNDP اور ILO کے ساتھ مل کر سماجی موضوعات پر کام کیا۔ اس کا کیا تجربہ رہا؟
فرحین چوہدری: جی، میں نے پی ٹی وی کے لیے یو این ڈی پی کا پروجیکٹ ‘ماٹی کی گڑیا’ لکھا۔ اس کے علاوہ آئی ایل او اور پی ٹی وی کے اشتراک سے چائلڈ لیبر جیسے حساس موضوع پر ٹیلی ڈرامے اور ‘چاند میرا بھی تو ہے’ جیسے پروجیکٹس لکھے۔ میرا ماننا ہے کہ آرٹ کا اصل مقصد سماجی برائیوں کی نشاندہی کرنا ہے۔
​سوال 5: آپ کو ‘سارک لٹریچر ایوارڈ’ سے نوازا گیا۔ اس اعزاز کی کیا اہمیت ہے؟
فرحین چوہدری: مجھے 2013 میں آگرہ میں سارک لٹریچر اینڈ کلچرل ایوارڈ سے نوازا گیا۔ میں نے سارک لٹریچر کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی کی اور وہاں بطور پینل جج بھی خدمات انجام دیں۔ یہ میرے لیے قومی سطح پر فخر کا باعث تھا۔
​سوال 6: آپ سنگاپور میں ایشیا پیسیفک رائٹرز کانفرنس میں بھی شریک ہوئیں۔ وہاں آپ کی کس کتاب کی پذیرائی ہوئی؟
فرحین چوہدری: سنگاپور میں میرا مختصر کہانیوں کا مجموعہ ‘Sugar Coated’ لانچ کیا گیا، جو کہ میری اردو کہانیوں کا انگریزی ترجمہ ہے۔ اسے وہاں کے ادبی حلقوں میں بہت سراہا گیا۔
​سوال 7: آپ کی ادبی تنظیم ‘LACS’ کا وژن کیا ہے؟
فرحین چوہدری: لٹریری آرٹ اینڈ کلچرل سنڈیکیٹ (LACS) کی چیئرپرسن کے طور پر میرا مقصد ادبی اور ثقافتی سرگرمیوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانا ہے۔ ہم کتابوں کی رونمائی اور ثقافتی تقریبات کا انعقاد کرتے ہیں تاکہ ادب زندہ رہے۔
​سوال 8: آپ کی پہلی کتاب ‘سچے جھوٹ’ 1991 میں آئی۔ اب تک کی اہم تصانیف کون سی ہیں؟
فرحین چوہدری: میری اب تک کل سات کتابیں منظرِ عام پر آ چکی ہیں اور تین مزید پر کام کر رہی ہوں۔ اہم تصانیف میں ‘سچے جھوٹ’ (1991)، ‘آدھا سچ’ (1999)، ‘میٹھا سچ’ (2018) اور شاعری کا مجموعہ ‘سورج پہ دستک’ (2019) شامل ہیں۔
​سوال 9: آپ نے آئی ایس پی آر (ISPR) کے لیے بھی دستاویزی فلمیں تیار کیں۔ ان کے موضوعات کیا تھے؟
فرحین چوہدری: میں نے آئی ایس پی آر، ERRA اور IFES جیسے اداروں کے لیے وانا اور سوات جیسے علاقوں پر اسکرپٹ لکھے اور دستاویزی فلمیں بنائیں۔ اس کے علاوہ ہالی ووڈ کے پیراماؤنٹ پکچرز کے اشتراک سے ایک فلم ‘Peochar’ کے انگریزی ورژن پر بھی کام کیا۔
​سوال 10: آپ نے ‘لوک ورثہ’ اور نشریات کے میدان میں کیا خدمات انجام دیں؟
فرحین چوہدری: لوک ورثہ میں میں نے ثقافتی دستاویزی فلمیں اور موسیقی کے لیجنڈز کے پروگرامز پروڈیوس کیے۔ ریڈیو پاکستان پر ‘A’ کیٹیگری کی آرٹسٹ کے طور پر شوز کیے اور پی ٹی وی سے ‘سچ آن لائن’ جیسے بامقصد ٹاک شوز بھی کیے۔
​سوال 11: آپ کے ڈرامے ‘Rest-2-Rent’ کو پی این سی اے (PNCA) فیسٹیول میں بہت پذیرائی ملی۔ اس کی کیا خاص بات تھی؟
فرحین چوہدری: جی، یہ ڈرامہ 2009 کے پی این سی اے ڈرامہ فیسٹیول میں بہت سراہا گیا۔ میرے تین ڈرامے ‘Rest-2-Rent’، ‘ایک رات’ اور ‘خواب بکتے نہیں’ مسلسل تین سال بہترین ڈراموں میں شامل رہے۔
​سوال 12: نجی چینلز جیسے جیو (Geo) اور اے آر وائی (ARY) کے ساتھ آپ کا کام کیسا رہا؟
فرحین چوہدری: جیو کے ابتدائی دنوں میں کئی ٹیلی فلمز لکھیں۔ اے آر وائی پر میرے لکھے ہوئے اسپیشل سولو پلے نشر ہوئے، جبکہ میرا سیریل ‘رنجش ہی سہی’ بھی اے آر وائی سے ٹیلی کاسٹ ہوا۔
​سوال 13: آپ تدریس کے شعبے سے بھی وابستہ رہی ہیں۔ اس بارے میں بتائیے؟
فرحین چوہدری: جی، میں نے رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی میں ماسٹرز کے طلباء کو میڈیا اسٹڈیز پڑھایا ہے۔
​سوال 14: کیا آپ کا کام عالمی ادبی پلیٹ فارمز پر بھی نمایاں ہوا؟
فرحین چوہدری: جی بالکل، میرا انٹرویو مشہور ادبی ویب سائٹ “ریختہ” پر بھی ہو چکا ہے، جو کہ ایک اعزاز کی بات ہے۔
​سوال 15: آپ کی تحریروں میں کشمیر کا ذکر کثرت سے ملتا ہے۔ اس حوالے سے آپ کے کام کی تفصیل؟
فرحین چوہدری: میں نے کشمیر کے مسئلے پر پی ٹی وی کے لیے خصوصی ڈرامہ ‘برگ و شجر’ لکھا۔ یہ ایک ایسا موضوع ہے جو میرے دل کے بہت قریب ہے۔
​سوال 16: آپ نے بچوں کے لیے بھی کچھ تخلیق کیا ہے؟
فرحین چوہدری: جی، میں نے بچوں کے چینل کے لیے کارٹون فلمیں اور وائس اوور کے پروجیکٹس مکمل کیے ہیں۔
​سوال 17: آپ کے کالم کن اخبارات میں شائع ہوتے رہے ہیں؟
فرحین چوہدری: میں روزنامہ ‘پاکستان’، ‘نئی بات’ اور ‘جناح’ میں باقاعدگی سے لکھتی رہی ہوں۔ میرے کالم اکثر “سچے جھوٹ” کے عنوان سے شائع ہوتے رہے ہیں۔
​سوال 18: آپ کو ملنے والے چند اہم ایوارڈز کے نام بتائیں؟
فرحین چوہدری: اللہ کا شکر ہے کہ میری خدمات کے اعتراف میں مجھے اب تک کل 54 ایوارڈز سے نوازا جا چکا ہے۔ ان میں سارک لٹریچر ایوارڈ، ریشم ایوارڈ، سوچ ایکسیلنس ایوارڈ اور ممتاز مفتی گولڈ میڈل (2019) شامل ہیں۔
​سوال 19: آپ کتنی زبانوں پر مہارت رکھتی ہیں؟
فرحین چوہدری: میں انگریزی اور اردو کے علاوہ پشتو، ہندکو، سرائیکی اور پنجابی بھی روانی سے بول سکتی ہوں۔
​سوال 20: فلم ‘ڈھائی چال’ (Dhai Chaal) کے بارے میں بتائیں جس کا اسکرپٹ آپ نے لکھا ہے؟
فرحین چوہدری: ‘ڈھائی چال’ ایک فیچر فلم ہے جس کا اسکرپٹ میں نے لکھا تھا۔ یہ فلم دو سال پہلے ریلیز ہو کر کامیابی سے چل چکی ہے، اسے اس کے منفرد موضوع کی وجہ سے بہت پذیرائی ملی۔
​اختتامی کلمات
​میزبان: فرحین چوہدری صاحبہ کا سفر ہمیں سکھاتا ہے کہ اگر مقصد بلند ہو تو قلم کی طاقت سے دنیا بدلی جا سکتی ہے۔ فرحین صاحبہ، آپ کی گفتگو ہمارے قارئین کے لیے یقیناً مشعلِ راہ ثابت ہوگی۔ آپ کے وقت کا بہت شکریہ۔